Friday, 10 October, 2008, 21:58 GMT 02:58 PST
امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ان کی حکومت موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے اور حصص بازاروں میں کاروبار کو مستحکم کرنےکے لیے ’جارحانہ‘ اقدامات کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے لان سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ عالمی منڈیوں اور حصص بازاروں میں اتارو چھڑاؤ سرمایہ کاروں میں پائے جانے والے خدشات اور بے یقنی کی وجہ سے ہے۔
امریکی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے منظور کیئے جانے والے سات سو ارب ڈالر کے اپنے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ یہ منصوبہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔
صدر بش نے یہ خطاب ایک ایسے وقت کیا ہے جب مختلف حکومتوں کی طرف سے شرح سود میں کٹوتی اور بینکوں کے لیے سرمائے کی فراہمی کے باوجود عالمی حصص بازاروں میں پائی جانے والی مندی کے رجحان کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔
صدر بش نے اپنے خطاب میں کسی نئے اقدام کا اعلان نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک امیر قوم اور اس کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس بہت سے طریقے موجود ہیں اور وہ ان طریقوں پر جارحانہ انداز میں عمل کیا جا رہا ہے۔
صدر بش نے کہا ’میرے ہم وطنوں ہم اس بحران کو حل کر سکتے ہیں اور ہم اس کو حل کر لیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ خوف کے شکار حصص بازاروں میں استحکام بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم سب اس کا شکار ہیں اور ہم سب مل کر ہی اس سے نکل سکتے ہیں۔‘
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی نے کہا کہ صدر بش کی طرف سے حصص بازاروں میں اعتماد بحال کرنے کے لیے اب تک کی جانے والے تمام تقریروں میں یہ سب سے مفصل اور طویل تھی۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے امریکی حصص بازاروں میں وقتی طور پر کاروبار کو معطل کر دینے کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی فراٹو نے کہا کہ امریکی حصص بازاروں میں ہونے والے کاروبار میں مداخلت کرنے کا نہ کوئی ارادہ ہے نہ اس سلسلےمیں کوئی بات ہو رہی ہے۔