Thursday, 09 October, 2008, 22:34 GMT 03:34 PST
امریکہ کے حصص بازاروں میں کاروبار کے مسلسل ساتویں دور میں مندی کا رجحان برقرار رہا اور ڈاؤ جون انڈکس گزشتہ پانچ برس میں پہلی مرتبہ نو ہزار پوائنٹ سے نیچے چلی گئی۔
مختلف حکومتوں کی طرف سے موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باوجود سرمایہ کار اس خوف میں مبتلا رہے کہ یہ مالیاتی بحران پوری دنیا میں کساد بازاری کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹھیک ایک سال پہلے ڈاؤ جونز اپنی بلند ترین سطح چودہ ہزار پوائنٹ پر بند ہوا تھا۔
یورپ کے حصص بازاروں میں ابتداء میں کاروبار میں بہتری دکھائی دی لیکن بعد میں لندن کی سٹاک مارکیٹ فٹسی ہنڈرڈ انڈکس ایک اعشاریہ دو فیصد کی کمی پر بند ہوا جبکہ فرانس کے حصص بازار میں ایک اعشاریہ پانچ پانچ فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
کاروبار کے آخری لمحات میں حصص کی فروخت زور پکڑ گئی۔ لاس انجلس میں حصص بازار میں کاروبار کرنے والی ایک کمپنی کے اہلکار کرس اونڈرف نے کہا کہ یہ صریحاً گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔
امریکہ کی گاڑیاں بنانے والے کمپنی جرنل موٹرز کے حصص کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اکتیس فیصد کی کمی ہوئی۔ اس کی وجہ سرمایہ کاروں میں پائے جانے والے یہ خدشات ہیں کہ عالمی سطح پر کساد بازاری کی صورت میں گاڑیوں کی فروخت میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔
توانائی کی کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی واقع ہوئی اور تیل کی قیمت پچاسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ
مالیاتی بحران کا اثر صرف مالیاتی اداروں اور بینکوں کے حصص تک محدود نہیں ہے۔
![]() |
|
| جنرل موٹرز کے شیئرز میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی |
تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک کے رکن ممالک کا ایک اہم اجلاس اٹھارہ نومبر کو ویانا میں ہو رہا ہے جس میں مالیاتی بحران کے تیل کی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے ایک ہنگامی طریقہ کار وضع کیا ہے جس سے ان ملکوں کی مدد کی جائے گی جو مالیاتی بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔