Wednesday, 08 October, 2008, 11:54 GMT 16:54 PST
برطانیہ کی حکومت نے اپنے بینکنگ نظام کے لیے 88 ارب ڈالر یعنی پچاس ارب پاؤنڈز کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
شروع میں یہ رقم برطانیہ کے آٹھ بڑے اور اہم بینکوں اور نیشن وائڈ بلڈنگ سوسائٹی کی تعمیرات کے لیے فراہم کی جائے گی۔ اس کے بدلے میں انہیں ’پریفرنس شیئر‘ دیے جائیں گے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا’ یہ قدم برطانیہ کے بینکوں کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔‘
بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں نصف فیصد کی کمی کا اعلان کیا۔ اس کمی کے ساتھ برطانیہ میں سود کی شرح پانچ فیصد سےگھٹ کر ساڑھے چار فیصد رہ گئی ہے۔
لیکن اس کے باوجود لندن میں ایف ٹی ایس آئی 100 پانچ فیصد گر گیا۔ حالانکہ ایچ بی او ایس کے شیئرز میں 26 فیصد اضافہ درج کیا گیا لیکن بارکلیز 11 فیصد اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں 13 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔
پلان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
بینکوں کو اپنی اصل رقم کم از کم 25 ارب پاؤنڈ تک بڑھانا ہوگی اور یہ رقم حاصل کرنے کے لیے وہ حکومت سے ادھار بھی لے سکتے ہیں۔
25 ارب پاؤنڈز کی اضافی رقم پریفرنس شیئرز کے تبادلے پر فراہم کی جائے گی۔
بینک آف انگلینڈ 100 ارب پاؤنڈز سے بڑھا کر 200 ارب پاؤنڈز تک کے قرضے تھوڑی مدت کے لیے دے سکے گا۔
قرض کی گارنٹی کے لیے 250 ارب پاؤنڈز کمرشل ریٹ پر فراہم کیے جائيں گے تاکہ بینک ایک دوسرے کو زیادہ رقم دے سکیں۔
اس سکیم میں شامل ہونے کے لیے بینکوں کو ایک ایف ایس اے معاہدے پر دستخط کرنے ہوں گے۔
حالیہ بحران بینکوں کی جانب سے ایک دوسرے کو ادھار فراہم نہ کیے جانے کے سبب ہی پیدا ہوا ہے۔ اس لیے حکومت کو لگتا ہے کہ اگر ان قرضوں کی گارنٹی فراہم کر دی جائے تو بینکوں کے لیے ایک دوسرے کو ادھار کے طور پر رقم فراہم کرنا آسان ہو جائے گا۔
ایبے، بارکلیز، ایج بی او ایس، ایچ ایس بی سی اور لائیڈز ٹی ایس بی ، نیشن وائڈ بلڈنگ سوسائٹی، رائل بینک آف سکاٹ لینڈ اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ جیسے بینکوں نے اس سکیم میں شامل ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خزانے کے محکمے کا کہنا ہے کہ دیگر بینکوں کو اس میں شامل ہونے کے لیے باقاعدہ طور پر عرضی دینی ہوگی۔
جن شیئرز کو خریدہ جائے گا وہ کمپنیاں منافع دینے کے بجائے ایک مقررہ سود ادا کریں گے ۔ یہ رقم شیئر ہولڈرز کو پہلے ہی فراہم کر دی جائے گی۔
اس معاہدے کا بینکوں نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ ایچ ایس بی او کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے’حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا قدم برطانیہ کے بینکوں کے لیے مستحکم اور یقینی صورت حال لائے گا۔‘