Wednesday, 08 October, 2008, 06:03 GMT 11:03 PST
جان مکین نے اپنے حریف صدارتی امیدوار اوبامہ کی طرف سے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر حملے کرنے کی بات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں ہونے والے دوسری صدارتی مباحثے میں انہوں نے سابق امریکی صدر روز ویلٹ کے ایک بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ کمانڈر اِن چیف کو دھیمی بات کرنی چاہیے لیکن ہاتھ میں ایک ڈنڈا رکھنا چاہیے۔
دوسری طرف ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار باراک اوبامہ نے جان مکین کی طرف سے خارجہ امور پر کیے جانے والے دعوؤں کو چیلنج کیا اور کہا ’یہ تو وہ ہیں جو ایران پر بمباری کی بات کرتے ہیں اور شمالی کوریا کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ ان سے دھیمے لہجے میں بات کرنے کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے ضروری ہے وہ ایران سے براہ راست بات چیت کرے اور ’سخت پیغام‘ دے کہ اسے اپنا طریقۂ کار بدلنا ہوگا نہیں تو پھر اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
اوبامہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک مشکل اقتصادی صورتحال میں فوجی اثر و رسوخ قائم نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہ جارج بُش کی خارجہ پالیسی نے، جس کے جان مکین بھی حمایتی تھے، امریکہ کے لیے غیر ملکی تنازعات میں کردار ادا کرنا مشکل کر دیا ہے کیونکہ اس نے اپنے اتحادیوں کی حمایت کھو دی ہے۔
مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے اقتصادی بحران کے حل کے لیے اپنی تجاویز بھی لوگوں کے سامنے رکھیں اور ان کا دفاع کیا۔
امریکہ میں انتخابات میں ایک مہینے سے کم وقت رہ گیا اور حالیہ جائزوں کے مطابق باراک اوبامہ کی برتری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گیلپ کے یومیہ جائزہ کے مطابق اوبامہ کی حمایت پچاس فیصد ہے جبکہ مکین کی بیالیس فیصد، جبکہ سی این این کے جائزے کے مطابق ترپن فیصد ووٹر اوبامہ کے حامی ہیں اور پینتالیس فیصد مکین کے۔