Monday, 06 October, 2008, 06:51 GMT 11:51 PST
الاسکا میں سرکاری ملازمین کا ایک گروپ ریپبلکن کی جانب سے نائب صدر کے عہدے کی امیدوار سارہ پیلن کے خلاف اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے کے الزام کی تحقیقات میں گواہی دینے کے لیے تیار ہوگیا ہے۔
محترمہ پیلن نے جو الاسکا کی گورنر ہیں، اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ایک سینئر سرکاری افسر کو غلط طریقے سے برخاست کیا تھا۔ سات افسران نے پہلے الاسکا سٹیٹ کونسل میں گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سارہ پیلن پر الزام ہے کہ انہوں نے الاسکا کے پبلک سیفٹی کمشنر والٹ مونیگن کو اس لیے برخاست کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے محترمہ پیلن کے سابق بہنوئی مائیک ووٹن کو پولیس کی نوکری سے نکالنے سے انکار کر دیا تھا۔
مسٹر ووٹن اور پیلن کی چھوٹی بہن کےدرمیان طلاق اور بچوں کی تحویل کا مقدمہ چلا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ سارہ پیلن اپنی ذاتی دشمنی کے لیے گورنر کے عہدے کا غلط استعمال کر رہی ہیں جبکہ محترمہ پیلن کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسٹر مونیگن کو بجٹ کی ترجیحات پر اتفاق نہ ہونے کے سبب برخاست کیا تھا۔
تحقیقات کی رپورٹ دس اکتوبر کی پیش کی جائے گی۔گزشتہ جمعہ کو الاسکا کے ایک جج نے ریپبلکن کے وکلاء کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ کونسل نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے کر اپنی حد سے تجاوز کیا ہے۔
سارہ پیلن کا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے اس اواخرِ ہفتہ ڈیموکریٹ کے صدارتی امیدوار اوباما کے خلاف یہ بیان جاری کر کے تنازعہ پیدا کر دیا کہ ان کا تعلق سابق شدت پسند گروپ کے سربراہ سے ہے۔
انہوں نے اوباما پرایک شدت پسند گروپ ’ویدر انڈرگراؤنڈ ‘ کے بانی بل آئیر سے تعلقات کا حوالہ دیا تھا ۔اس گروپ نے ویتنام جنگ کے خلاف پر تشدد مہم چلائی تھی۔اس گروپ پر 1960 کی دہائی میں امریکہ میں کئی بم دھماکے کرنے کا الزام ہے۔
کئی سال قبل مسٹر اوباما مسٹر آئیر کے ساتھ ایک خیراتی ادارے کے لیے کام کرتے تھے مسٹر آئیر اب ایلینوائے یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔