Sunday, 05 October, 2008, 23:20 GMT 04:20 PST
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں ایک کارروائی کے دوران ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین عورتیں اور تین بچے بھی شامل تھے۔ فوج کے مطابق کارروائی میں پانچ شدت پسند بھی مارے گئے۔
تاہم مقامی مردہ خانے میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کے جسموں پر گولیوں کے نشان تھے۔
امریکی فوج کے ایک بیان کےمطابق امریکی فوجیوں کا مسلح ہتھیار بندوں کے ساتھ اس وقت فائرنگ کا تبادلہ ہوا جب وہ مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کے لیے ایک عمارت میں داخل ہوئے تھے۔
مردہ خانے کے اہلکار کے مطابق ایک تھیلے میں انسانی جسم کے ٹکڑے لائے گئے جس سے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ عمارت میں ایک خود کش بمبار بھی موجود تھا۔
امریکی حکام نے بات کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ گولیوں سے بھی ہلاک ہو سکتے ہیں۔
امریکی فوج کے بیان کے مطابق خود کش دھماکے کے بعد عمارت سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
موصل میں ہی مسلح افراد کی ایک جنازے پر فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔