Tuesday, 30 September, 2008, 11:57 GMT 16:57 PST
طالبان کے سپریم لیڈر ملا عمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سرگرم اتحادی افواج یا تو انخلاء کا فیصلہ کر لیں ورنہ انہیں ایسی ہی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جیسی شکست سوویت افواج کو ہوئی تھی۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے ملا عمر سے قیامِ امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
ملا عمر نے امریکی و نیٹو افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ اپنے غلط قبضے کے غلط فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور اپنی افواج کے لیے محفوظ راستہ تلاش کریں‘۔ ان کے مطابق اگر قبضہ جاری رہا تو’ آپ سابق سوویت یونین کی طرح دنیا کے تمام خطوں میں شکست کھائیں گے‘۔
ملا عمر نے اپنے اس بیان میں اپنے طالبان جنگجوؤں سے کہا ہے کہ ’دشمنوں کے سامنے فولادی دیوار بن کر کھڑے رہیں‘ لیکن شہری ہلاکتوں سے بچیں۔ انہوں نے حکمتِ عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے طالبان کو مساجد اور پرہجوم مقامات کو نشانہ نہ بنانے کا حکم بھی دیا۔
طالبان لیڈر کے اس بیان کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے اخباری نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چند دن قبل میں نے ان کے رہنما ملا عمر سے پرزور انداز میں کہا ہے کہ میرے بھائی، میرے عزیز اپنے وطن میں واپس آؤ اور امن اور اپنے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرو اور اپنے بھائیوں کو مارنا بند کردو‘۔
افغان صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ طالبان کے ساتھ سعودی عرب میں بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے بادشاہ سے بذریعہ خط اپیل کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان اور خطے میں قیامِ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔