Saturday, 27 September, 2008, 03:08 GMT 08:08 PST
نومبر میں امریکہ کے صداراتی انتخاب کے امیدواروں نے اپنے پہلے مباحثے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھنے اور پاکستان کی جانب سے امریکی افواج کو مزید تعاون فراہم کرنے پر گفتگو کی ہے۔
آکسفورڈ مسیسپی میں نوے منٹ کے مباحثے کے دوران ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر جان مکین کا کہنا تھا امریکہ کو پاکستان کی امداد ختم نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ افغانستان کی جنگ جیتنے کے لیے اسلام آباد کا تعاون بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر اوباما کو کھلے عام پاکستان پر حملےکی باتیں نہیں کرنی چاہیے تھیں۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار باراک اوباما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان القاعدہ کی قیادت کو پکڑنے اور پاکستان میں ان کے ٹھکانے ختم کے لیے راضی نہیں ہوتا یا ایسا عمل نہیں کرتا تو امریکہ کو خود ایسا کرنا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ پاکستان کے بارے میں کیا پالیسی رکھیں گے۔
مباحثے سے قبل امریکی فوج کی جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کا مسئلہ زیادہ خطرناک نہیں ہے تاہم اسے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’پاکستان میں صورتِ حال بہت کشیدہ اور انتہائی خطرناک ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آسمان ٹوٹنے والا ہے اور ہمیں ضرورت سے زیادہ ردِ عمل کا اظہار کرنا چاہیے۔‘
مباحثے کے دوران سینیٹر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پالیسی یہ رہی کہ اس نے (جنرل ریٹائرڈ مشرف سے تعلق رکھا لیکن) پاکستانی عوام کو تنہا کر دیا۔ ’اگر میں امریکہ کا صدر بنا تو یہ صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی۔‘
اس کے جواب میں سینیٹر مکین کا کہنا تھا کہ جب پرویز مشرف صدر بنے اس وقت پاکستان ایک ناکام ریاست تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستانی عوام کی حمایت کی ضرورت ہے جس کی ان کے صدر بننے کی صورت میں کوشش جاری رکھی جائے گی اور پاکستان کی امداد ختم نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میریئٹ پر گزشتہ سینچر کو ہونے والے حملے کا مقصد یہ تھا کہ ’وہ (شدت پسند) نہیں چاہتے کہ پاکستان حکومت امریکہ کے ساتھ تعاون کرے‘۔
باراک اوباما کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کے لیے امریکہ نے پاکستان کو دس بلین ڈالر کی امداد دی ہے لیکن پاکستان نے وہ نہیں کیا جو اسے (پاکستان کو) کرنا چاہیے تھا۔
دونوں رہنماؤں نے افغانستان اور عراق کی صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کی اور ایک دوسرے کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں کی ’کمزوریاں‘ اجاگر کیں۔ جان مکین کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق میں جنگ جیت رہا ہے اور اگر سینیٹر اوباما کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی تھی۔