Thursday, 25 September, 2008, 09:03 GMT 14:03 PST
امریکہ کے صدر جارج بش نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے مجوزہ سات سو ارب ڈالر کے ایمرجنسی پیکج کو سینیٹ سے منظوری نہیں ملتی ہے تو امریکہ میں پیدا ہوئے اقتصادی بحران کا حل مشکل ہو گا۔
ایک طویل وقفے کے بعد امریکی عوام سے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ یہ تجویز نہ صرف اقتصادی بحران کا شکار کچھ کمپنیوں کو بچانے کے لیے پیش کی گئی ہے بلکہ اس کا مقصد امریکہ کے اقتصادی نظام کو سنبھالا دینا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ اقتصادی بحران سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی معیشت کے کچھ حصے کام نہيں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے منگل کو امریکی کانگریس کے سامنے ایمرجنسی اقتصادی پیکج کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ اس کی مدد سے امریکی معیشت کے موجودہ بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔
حالانکہ منگل کو جب امریکی سینیٹ کے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی تھی تو ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں ہی پارٹیوں کے اراکین نے اس پر سوال اٹھائے تھے۔
اراکین کا کہنا تھا کہ یہ تجویز ایک اچھی سوچ ہے جس پر کام تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا بھروسہ نہیں ہے کہ اس کے نتیجے میں اقتصادی بحران ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو فی الحال ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس کی مدد سے اقتصادی بحران کا حل مکمل طور پر کیا جا سکے۔
اس کے بعد صدر بش اس تجویز کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو (آج) انہوں نے صدر کے عہدے کے دونوں امیدواروں ، باراک اوبامہ اور جان مکین کو اس سلسلے میں بات چیت کے لیے بلایا ہے۔
باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس جائيں گے۔اس سے قبل صدر کے عہدے کے دونوں امیدوار نے ایک
مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں سبھی سیاسی جماعتوں سے امریکہ کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے حمایت فراہم کرنے کی اپیل کی
گئی تھی۔