Sunday, 21 September, 2008, 00:32 GMT 05:32 PST
بش انتظامیہ نے امریکی مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے امدادی منصوبہ کا مسودہ کانگریس کے سامنے پیش کر دیا ہے جس میں حالیہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ’غیر معمولی اختیارات‘ کے استعمال کی اجازت طلب کی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی وزیرِ خزانہ کو آئندہ دو برس کے لیے بحران کا شکار بینکوں سے ان کے ڈوبے ہوئے مارگیج قرضے خریدنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے استعمال کا کل اختیار دے دیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وزیرِ خزانہ کا کوئی بھی عمل کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
امریکی صدر جارج بش نے ایک ریڈیائی خطاب میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان پر یہ بوجھ ڈالنے کی قیمت اس قیمت سے کہیں بہتر ہے جو ملازمتوں کے خاتمے اور خراب ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس کی صورت میں ادا کرنی پڑتی۔
ادھر کانگریس کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر چارلس شومر نے کہا ہے کہ امریکی پارلیمان اس منصوبے کو جلد از جلد منظور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم اس منصوبےسے مالیاتی اداروں کی مدد تو ہو گی مگر اس میں ٹیکس دہندگان اور گھروں کے مالکان کو کوئی تحفظ نہیں دیا گیا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے بھی کہا ہے کہ ڈیموکریٹ بش انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس بحران سے جلد از جلد نمٹنے کے لیے کام کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کم اور اوسط آمدن والے امریکیوں کا تحفظ بھی چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ایک ایسا پیکج لایا جائے جس کے نتیجے میں نوکریاں پیدا ہوں اور ملک کی معاشی ترقی دوبارہ شروع ہو۔
یاد رہے کہ امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اب مزید خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تیزی سے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔