Thursday, 18 September, 2008, 04:09 GMT 09:09 PST
دنیا کے سب سے بڑے امدائی ادارے نے کہا ہے کہ ہنگامی حالات کے دھانے پر زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی تعداد گزشتہ دو برس میں دو گنی ہو کر بائیس کروڑ ہو گئی ہے۔
کیئر انٹرنیشنل کے مطابق امداد کے لیے دیئے جانے والے اربوں ڈالر اگر صحیح طریقے سے استعمال نہ کیئے گئے تو ضائع ہوجائیں گے۔
کیئر انٹرنیشنل نے کہا کہ غربت کے بنیادی عوامل کو حل کرنے میں ناکامی کے باعث کروڑوں کی تعداد میں لوگ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمیتوں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔
دنیا میں غریت اور بھوک میں سن دو ہزار پندرہ تک پچاس فیصد کمی کرنا اقوام متحدہ کا ایک بڑا ہدف ہے۔
کیئر انٹرنیشنل کے برطانیہ میں سربراہ جیفری ڈینس نے کہا کہ دنیا کی طرف سے خوراک کی قلت پر اقدام نہ کرنا بڑا مہنگا ثابت ہوا اور اس کی قیمت دنیا کے غریبوں کو چکانی پڑی جو کہ مناسب خوارک سے محروم ہو گئے۔
کیئر انٹرنیشنل کی رپورٹ اقوام متحدہ کی ’ملینیم ڈویلپمنٹ گول‘ پر سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے ایک ہفتے قبل سامنے آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ اہداف میں سن دو ہزار پندرہ تک صرف ایک ڈالر یومیہ کمانے والے لوگوں کی تعداد میں نصف حد تک کمی کرنا ایک بڑی ترجیح ہے۔
کیئر انٹرنشینل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عالمی برادری نے لاتعداد قدرتی آفات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بے شمار مرتبہ امداد پہنچانے میں تاخیر ہوئی اور اس کے علاوہ امدادی کاوشوں کا مقصد لوگوں میں قدارتی آفات سے بچنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے بجائے عارضی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔
رپورٹ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ خوراک کی شدید کمی کا شکار لوگوں کی تعداد میں سات کروڑ پچاس لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد اب بڑھ کر بانوے کروڑ پچاس لاکھ ہو گئی ہے۔
کیر انٹرنیشنل کے مطابق امداد دینے کے نظام کو مکمل طور پر بدلنا چاہئے کیونکہ صرف ہنگامی امداد پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔