Thursday, 18 September, 2008, 00:51 GMT 05:51 PST
اسرائیل کی وزیر خارجہ زپی لیونی جن کو حکمران جماعت قدیمہ پارٹی کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے صرف دس سال پہلے تک سیاست کے میدان میں ایک غیر معروف نام تھا لیکن اب وزیر اعظم کا عہدہ ان کی دسترس میں نظر آ رہا ہے۔
پچاس سالہ زپی لیونی سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے وکیل اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی ایجنٹ بھی رہ چکی ہیں۔ زپی لیونی ماضی میں سخت گیر صہونی قوم پرست رہی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب وہ فلسطینیوں کے ساتھ ’لینڈ فار پیس‘ یعنی امن کے بدلد زمین کی زبردست حامی ہو گئی ہیں۔
اسرائیل کی تاریخ میں وہ دوسری خاتون وزیر خارجہ ہیں۔ وزیر خارجہ کے طور پرگزشتہ دو برس سے وہ ایہود اولمرت کی حکومت میں فلسطینیوں سے مذاکرات کرنے والی اسرائیلی ٹیم کی قیادت کرتی رہی ہیں۔
زپی لیونی اسرائیل کے عوام میں انتہائی مقبول ہیں اور انہیں ’مز کلین‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسرائیل کی سیاست میں گزشتہ کئی برس سے سابق فوجی جن پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے، چھائے ہوئے تھے ایسے ماحول میں لیونی کو ایک بڑی اور خوشگوار تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم کچھ حلقوں کی طرف سے ان پر ناتجربہ کار ہونے کا اعتراض کیا جا تا ہے۔
لیونی کا مختصر سیاسی تجربہ انیس سو ننانوے میں اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ میں دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی کی طرف سے منتخب ہونے سے شروع ہوا۔
لیونی اس وقت کے وزیر اعظم اور لیکود پارٹی کے سربراہ ایرئیل شیرون کے خاص ساتھیوں میں شامل تھیں جنہوں نے انہیں سن دو ہزار ایک میں علاقائی ترقی کا وزیر نامزد کیا۔
وزیر خارجہ کا اہم ترین قلمدان سنبھلنے سے پہلے وہ مہاجرین کی آبادکاری، ہاوسنگ اور تعمیرات اور قانون کی وزیر رہ چکی ہیں۔
وہ ایرئیل شیرون کی خاص مشیر تھیں اور سن دو ہزار پانچ میں غزا سے اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کو نکالنے کے ان کے متنازعہ فیصلے میں شامل تھیں۔
سن دو ہزار پانچ کی موسم خزاں میں جب ایرئیل شیرون نے لیکود پارٹی سے اپنے اختلاف کی وجہ علیحدگی اختیار کرکے قدیمہ پارٹی تشکیل دی تو لیونی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور نئی جماعت میں شامل ہو گئیں۔
فلسطینیوں سے یکہ طرفہ طور پر جھگڑا ختم کرنے اور علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا لیونی کے خیالات میں ایک بڑی نظریاتی تبدیلی تھی۔
لیونی کے والد کا تعلق پولینڈ سے تھا اور یہودیوں کی خفیہ تنظیم ارگن کے سرکردہ رکن تھے۔ یہ تنظیم انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام سے قبل فلسطین پر برطانوی تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد میں پیش پیش تھی اور وہ انیس سو چھیالیس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملے میں بھی شامل تھی جس میں اکانوے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
عظیم اسرائیل کے خواب کے ساتھ بڑی ہونے والی زپی لیونی اب اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اسرائیل کے اپنے مستقبل کے لیے علیحدہ فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔