http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 17 September, 2008, 03:08 GMT 08:08 PST

’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘

افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ڈیوڈ میکرینن نے کہا ہے کہ افغانستان میں شورش کو کچلنے کے لیے انہیں مزید دس ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔

ڈیویڈ میکرینن نے جو کہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوج کے کمانڈر ہیں کہا ہے کہ صدر بش نے افغانستان میں جن تین ہزار فوجیوں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے ان کے علاوہ انہیں مزید دس ہزار فوجی چاہئیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیویڈ میکرینن نے یہ بات افغانستان کے دورے پر آئے امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

افغانستان میں بھاری تعداد میں مزید فوجی بھیجنے کی اپیل طالبان اور القاعدہ کے شدت پسندوں کی طرف سے کارروائیوں میں تیزی اور پاکستان میں ان کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کے پس منظر میں کی گئی ہے۔

میکرینن نے امریکہ کے چیئرمین جوائٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن کی اسلام آباد روانگی سے قبل کابل میں ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کم از کم تین بریگیڈ اور ان کے معاون دستوں کی ضرورت ہے اور یہ اُن تین ہزار فوجیوں کے علاوہ ہے جن کو افغانستان بھیجنے کا اعلان صدر بش نے حال ہی میں کیا تھا۔

میکرینن نے کہا کہ گو کہ شدت پسندوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی لیکن اس شورش کو دبانے کے لیے کافی وقت لگ سکتا ہے۔

اس وقت افغانستان میں تینتیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور شدت پسندوں نے نئے طریقے اپنا لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مزید تین بریگیڈ کو افغانستان بھیجنے کی ضرورت کو مان لیا ہے اور یہ اب یہ دیکھنا ہے کہ کب یہ بریگیڈ بھیجے جاتے ہیں

انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان میں کمک کو عارضی نہیں کہیں گے بلکہ انہیں اس کی طویل عرصے کے لیے ضرورت ہے۔