امریکہ میں جاری شدید مالی بحران کے دوران ملک کے چوتھے بڑے سرمایہ کار ادارے لیہمین برادرز نے دیوالیہ قرار دیے جانے کی درخواست دی ہے، جس سے عالمی مالیاتی نظام کو شدید دھچکا لگا ہے۔
حالیہ مہینوں میں ایک سو پچاس سال پرانے اس بینک کو امریکی مارٹگیج مارکیٹ میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ لیہمن برادرز کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ درخواست امریکی ’بینکرپٹسی کوڈ‘ کے باب گیارہ کے تحت دی ہے، جس کے مطابق دیوالیہ ہونے والے ادارے کو قرض داروں کو رقوم لوٹانے اور خود کو از سر نو منظم کرنے کی مہلت مل جاتی ہے۔
کئی اور بڑی امریکی کمپنیاں بھی مشکلات سے دوچار ہیں اور اس کا دنیا بھر میں رد عمل حصص کی گرتی ہوئی قیمتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکی وال سٹریٹ پر ایسے چوبیس گھنٹے گزرے ہیں جنہیں انیس سو بیس کے بعد سب سے زیادہ غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے جن میں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے مدد مانگ رہی تھیں۔
اسی طرح کی ایک اور ڈرامائی پیش رفت میں اطلاعات کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی بروکریج فرم میرل لِنچ نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ بنک آف امریکہ اسے اپنی ملکیت میں لے لے۔ نیو یارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ سودا پچاس ارب ڈالر میں طے ہوا ہے۔
دنیا کے سرکردہ بینک اور مالیاتی ادارے مشکلات سے دوچار اداروں کی مدد کے لیے ستر ارب ڈالر کے خصوصی قرضے کے لیے فنڈ کے قیام پر متفق ہوگئے ہیں۔
سرمایہ کار ادارے لیہمین برادرز کے دیوالیہ ہونے سے دنیا بھر کے مالیاتی نظام کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ مختلف بینک لیہمین برادرز سے کیےگئے اپنے پیچدہ سودوں کو ختم کرنا شروع کر دیں گے۔ اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی انشورنس کمپنی اے آئی جی بھی امریکہ کے مرکزی ریزرو بینک سے تقریباً چالیس ارب ڈالر کے فنڈ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
لیہمین برادرز کے دیوالیہ ہونے کے عمل میں مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے اور اس سے مختلف بینک اور مالیاتی ادارے انتہائی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو جائیں گے۔
لیہمین برادرز کے دنیا بھر میں پچیس ہزار ملازمین ہیں جن میں سے پانچ ہزار صرف برطانیہ میں اس کی شاخوں کے لیے کام کرتے ہیں۔
بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر رابرٹ پیٹرسن کے مطابق بارکلیز بینک کی طرف سے لیہمین کے سودے سے پیچھے ہٹنا امریکہ کے اس چوتھے بڑے بینک کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
لیہمین برادرز نےگھروں کی خریداری کے لیے جاری کیے گئے قرضوں میں کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی حصص مارکیٹ وال سٹریٹ امریکہ میں سن انیس سو تیس کی شدید کساد بازاری کے بعد اب تک کوئی مالیاتی ادارہ دیوالیہ ہونے کی حد تک نہیں پہنچا۔