Saturday, 13 September, 2008, 11:57 GMT 16:57 PST
افغانستان کے صوبے لوگر کے گورنر کابل کے قریب اپنے گھر کے باہر سڑک کے کنارے نصب کیے گئے بم کا نشانہ بن گئے ہیں۔ گورنر عبداللہ کے ساتھ ان کے دو محافظ اور ڈرائیور بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گورنر کا گھر کابل کے مغرب گاؤں پغمان میں ہے۔
وردک صدر حامد کرزئی کی کابینہ کے رکن بھی رہے ہیں۔ انہوں نے سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف لڑائی میں امریکی فوج کے ساتھ حصہ لیا تھا۔
عبداللہ وردک افغانستان کے دوسرے گورنر ہیں جو ماضی قریب میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔ان حملوں کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی جاتی ہے جنہوں نے کچھ عرصہ سے غیر ملکی افواج پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
لوگر صوبہ کابل کے جنوب میں واقع ہے اور طالبان تحریک کا اہم مرکز ہے۔ صوبے کے گورنر تین گاڑیوں کے کارواں میں سفر کر رہے تھے جب ان کی گاڑی بم کا براہ راست نشانہ بن گئی۔
خبر رساں ادارے اے پی نے ایک شخص کا بیان نشر کیا ہے جس میں اس نے کہا کہ بم قریب ہی پہاڑی پر کھڑے دو لوگوں نے چلایا۔