Friday, 12 September, 2008, 00:44 GMT 05:44 PST
صدر بش کی طرف سے پاکستان کی سرحد کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر زمینی کارروائی کی اجازت دینے کی خبروں کے حوالے سے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کی ہے۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان ندیم کیانی نے بی بی سی کے برجیش اپادھیائے کو اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بش انتظامیہ نے پاکستانی سفیر کو یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین پر فوجیں اتارنے کے بارے میں کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔
ندیم کیانی نے نیو یارک ٹائمز کی خبر کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ بش انتظامیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک ساتھ ہیں اور مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی سفیر کو اس بات کی بھی یقین دلایا ہے کہ تین ستمبر جیسے واقعات دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔ یاد رہے کہ تین ستمبر کو امریکی فوج نے پاکستان کی سرزمین پر اتر کر مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔
دوسری طرف دفتر خارجہ کے سینیئر اہلکار رچرڈ باؤچر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ پوری طرح مل کر کام کر رہے ہیں۔‘
تاہم امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ایک سینیئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر بش نے اسلام آباد کی اجازت کے بغیر پاکستان کی حدود کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر زمینی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک سینیئر اہلکار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بتایا کہ گزشتہ دو ماہ میں صدر بش نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان آنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
بی بی سی کی واشنگٹن میں نامہ نگار کم گھٹاس کا کہنا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں اس بات کی کتنی تشویش ہےکہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر رہا۔