Tuesday, 09 September, 2008, 07:17 GMT 12:17 PST
امریکی صدر جارج بش منگل کو ایک اہم تقریر میں کہیں گے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جدو جہد میں ایک اہم میدان جنگ ہے اور یہ کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان کو اپنی ’ذمہ داری‘ نبھانی چاہیے۔
صدر بش نے امریکی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے اپنے خطاب میں عراق سے آٹھ ہزار فوجیوں کو واپس بلانے اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان کیا۔
تقریر کا متن وہائٹ ہاؤس نے پیر کی شب جاری کیا۔
صدر بش کے مطابق افغانستان اور عراق کی طرح پاکستان بھی اہم میدان جنگ ہے اور تینوں ملکوں سے امریکہ کو منفرد قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
’تینوں ملک (دہشت گردی کے خلاف) جنگ کے الگ الگ محاذ ہیں۔ تینوں جگہ شدت پسند تشدد اور دہشت کا راستہ اختیار کرکے عوام پر اپنے نظریات تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
’ان دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو شکست دینا پاکستان کے اپنے حق میں ہے کیونکہ ایک جمہوری اور آزاد ملک کی حیثیت سے پاکستان کی بقا کے لیے یہ لوگ ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔‘
’ان شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو شکست دینا پاکستان کی ذمہ داری بھی ہے کیونکہ ہر ملک کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے۔‘
صدر بش کی جانب سے یہ بات ایسے وقت کہی جارہی ہے جب حال ہی میں کئی مرتبہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی یا بین الاقوامی افواج نے کارروائیاں کی ہیں جن میں عام شہریوں کے بھی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔