Friday, 05 September, 2008, 08:06 GMT 13:06 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس لیبیا کا ’تاریخی‘ دورہ کر رہی ہیں جو حالیہ تاریخ میں امریکی وّیر خارجہ کا لیبیا کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے پہلے انیس سو ترپن میں امریکی وزیر خارجہ لیبیا گئے تھے۔
امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ان کے شمالی افریقہ کے دورے کا حِصّہ ہے۔ وہ تیونس، الجیریا اور مراکش کا بھی دورہ کریں گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد تریپولی سے بتاتے ہیں کہ چھ برس قبل اس قسم کے دورے کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن سفارتی اور سیاسی جدوجہد نے اس رخنے کو دور کر دیا ہے۔
محترمہ رائس کا دورہ لیبیا کی جانب سے لاکربی بمباری کے واقعہ کے متاثرین کو معاوضہ نہ دیے جانے جیسی ناکامی کو اجاگر کر سکتا ہے۔
پیر کو ہی لیبیا نےان لوگوں کے لواحقین کے لیےمعاوضہ کے پیکج کو حتمی شکل دی جو انیس سو اٹھاسی میں اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب لاکربی پر سے پرواز کے دوران ایک امریکی طیارے کو بم کے دھماکے سےاڑا دیا گیا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری لیبیا پر عائد کی گئی تھی۔ لیکن اس کی معاوضے کی ادائیگی پر رضامندی سے اب کونڈولیزا رائس کے دورے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے ایک مرتبہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو ’پاگل کتا‘ کہا تھا۔ کرنل قذافی اب محترمہ رائس کی میزبانی
کریں گے۔
![]() |
|
| سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن نے ایک مرتبہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو ’پاگل کتا‘ کہا تھا۔ |
واشنگٹن اس دورے سے شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک کویہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بھی امریکہ سےاپنے تعلقات استوار کر سکتےہیں۔
اسی ہفتے اٹلی کے وزیر اعظم سِلویو برلسکونی نے لیبیا کے ساتھ سامراجیت کے دور کے تنازعات کے حل کے لیے اس کو پانچ ارب ڈالر ادا کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
معمر قذافی نے بن غازی میں ہونے والے اس معاہدے کے بارے میں کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان شراکت کا راستہ کھلا ہے۔
لیبیا کی سن دو ہزار تین میں سفارتی اعتبار سے تنہائی ختم ہو گئی تھی جب اس نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کی کوشش ترک کر دی تھی۔