Sunday, 31 August, 2008, 09:47 GMT 14:47 PST
برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ روس کی مزید جارحیت کو روکنے کے لیے نیٹو اور یورپی یونین کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔
مسٹر براؤن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جورجیا کے تنازعے پر روس تیل اور گیس کی رسد روک سکتا ہے۔
جنوبی اوسیٹیاکے بحران پر تبادلہ خیال کے لیے یورپی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس سے ایک روز قبل مسٹر براؤن نے سنڈے آبزور میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر تفصیل سے نظر ثانی کرنی چاہئے۔
خطے میں یہ لڑائی سات اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب جارجیا نے جنوبی اوسیٹیا پر طاقت کے ذریعے اپنا کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کی۔جس کے بعد روس نے جوابی حملے کیے۔
مسٹر براؤن کا کہنا تھا کہ ’اگر روس کو جنوبی اوسیٹیا جیسے معاملے پر کوئی شکایت ہے تو اسے یکطرفہ طور پر جوابی کارروائی کرنے کے بجائے عالمی منظوری کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’روس کو میرا واضح پیغام یہ ہے کہ اگر اسے جی8 ،ڈبلیو ٹی او اور او ای سی ڈی جیسی بڑی تنظیموں میں رہنا ہے تو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ روس جی 8 ، اور دوسری بڑی تنظیموں میں ہمارا اچھا شریک بنے لیکن وہ اپنے قانون و قاعدے خود وضع نہیں کر سکتا۔
مسٹر براؤن نے کہا کہ ’پیر کو ہونے والی کانفرنس میں یہ دلیل دوں گا کہ روس جورجیا کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئےاپنی
افواج واپس بلائے۔