Friday, 29 August, 2008, 11:21 GMT 16:21 PST
روس نے جی سیون ممالک کی طرف سے جورجیا میں کارروائی پر تنقید کو متعصب اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جی سیون ممالک نے جورجیا کی ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کے خلاف جارحیت کو صحیح قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
جی سیون ممالک جس میں امریکہ ، برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں کا کہنا ہے کہ روس نے ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کو خودمختار ممالک کے طور پر تسلیم کرنے سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے جی سیون پر الزام عائد کیا ہے کہ ’انہوں نے روس کے خلاف بے بنیاد الزام لگایا ہے کہ اس نے جورجیا کی ریاستی خود مختاری کی پروا نہیں کی‘۔
’جی سیون کا یہ قدم متعصب ہے اور جورجیا کی کاروائی کو صحیح قرار دینے کی کوشش ہے۔‘
روس کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب دونوں ریاستوں کے حکام نے روس کے ساتھ قریبی تعلقات کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جنوبی اوسیٹیا کے پارلیمانی سپیکر نے کہا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا کچھ سال بعد روس میں ضم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر ماسکو میں اعلٰی حکام کے ساتھ اتفاق ہوگیا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق اگلے ہفتے ماسکو میں جنوبی اوسیٹیا میں فوجی اڈے قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
انٹر فیکس کے مطابق ابخازیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ابخازیہ روس اور بلاروس کی یونین ریاست کا حصہ بن جائے گا۔
کریملن نے ان رپورٹوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم وزارت خارجہ پریس کانفرنس کرے گی۔
یہ رپورٹ روسی وزیراعظم کی امریکہ کے ساتھ نوک جھونک کے ایک دن بعد منظر عام پر آئی ہیں۔
روسی وزیراعظم نے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کو خدشہ ہے کہ جورجیا کی جنگ امریکہ نے اس لیے شروع کروائی تھی کہ ایک صدارتی امیدوار کو فائد پہنچ سکے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے پیوٹن کے اس بیان کو رد کر دیا۔