Friday, 29 August, 2008, 02:54 GMT 07:54 PST
امریکہ کی ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار باراک اوبامہ نے قومی کنونشن میں موجود پچھہتر ہزار ڈیموکریٹس حامیوں کے سامنے اپنی نامزدگی قبول کر لی ہے۔
اوبامہ امریکی تاریخ میں وہ پہلے سیام فام شخص ہیں جنہیں کسی بڑی سیاسی جماعت نے عہدۂ صدارت کے لیے اپنا امیدوار چنا ہے۔
ڈینور کے انویسکو سٹیڈیم میں جاری کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ہر کسی کے لیے موقع فراہم کرنے کا امریکی خواب زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اوبامہ کا کہنا تھا کہ ’میں ہماری(امریکی) اخلاقی حیثیت بحال کرواؤں گا۔ تاکہ امریکہ ایک مرتبہ پھر آزادی،امن اور بہتر مستقبل کے حصول کے لیے کام کرنے والوں کے لیے آخری بہترین امید بن جائے‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ آنے والے دس برس میں مشرقِ وسطٰی کے تیل پر امریکہ کا انحصار ختم کروا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ امریکہ والو ہم گزر جانے والے آٹھ برسوں سے کہیں بہتر ہیں۔ ہم اس سے کہیں بہتر ملک ہیں۔ ہم یہاں اسی لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم اپنے ملک سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ اس کے آنے والے چار برس کو گزرے ہوئے آٹھ برس جیسا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے‘۔
انہوں نے کہا کہ’امریکی حکومت کو اپنے عوام کے لیے کام کرنا چاہیے نہ کہ ان کے خلاف‘۔ باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ بیسویں صدی کی افسر شاہی کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔
عراق جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے باراک اوبامہ نے کہا کہ وہ عراق سے امریکی فوجیوں کو واپس بلائیں گے جبکہ جان مکین ’اس غلط رخ اختیار کر لینے والی جنگ کو ختم نہ کرنے کے حوالے سے ہٹ دھرمی کے مظاہرے میں اکیلے رہ گئے ہیں‘۔
اوبامہ کی نامزدگی کی تقریب اسی دن ہو رہی ہے جب آج سے پینتالیس برس قبل حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے امریکی سیاہ فام رہنما مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی مشہور تقریر’میرا ایک خواب ہے‘ کی تھی۔
مارٹن لوتھر کنگ کے بیٹے مارٹن لوتھر کنگ سوئم نے کنونشن کے حاظرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کا خواب اوبامہ کی نامزدگی کی صورت میں زندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم سب اسی خواب کی پیداوار ہیں اور وہ (مارٹن لوتھر کنگ) ہمارے دلوں اور دماغوں میں موجود ہیں۔ لیکن یہی نہیں بلکہ وہ باراک اوبامہ کی امیدوں، ان کے خوابوں، ان کے حوصلے اور ان کی راست بازی کی صورت میں بھی موجود ہیں‘۔
باراک اوبامہ کی تقریر سے قبل سابق امریکی صدر الگور نے اپنی تقریر میں کہا کہ ڈیموکریٹس کو چاہیے کہ وہ تبدیلی کے لیے ملنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اوبامہ کو کامیاب کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی خود ساختہ معاشی بحران سے چھٹکارا، امریکی عام کے حقوق کا تحفظ اورگلوبل وارمنگ کو روکنا چاہتے ہیں تو انہیں تبدیلی لانا ہو گی۔
رپبلکن امیدوار جان مکین کا تعلق موجودہ امریکی صدر جارج بش کی پالیسیوں سے جوڑتے ہوئے الگور نے کہا کہ ’اگر آپ کو بش اور چینی کا طریقہ پسند ہے تو مکین آپ کے امیدوار ہیں اور اگر آپ تبدیلی چاہتے ہیں تو باراک اوبامہ اور جو بائیڈن کو ووٹ دیں‘۔