Monday, 25 August, 2008, 09:54 GMT 14:54 PST
روس کی ایوان بالا کے ارکان پارلیمان نےمتفقہ طور پر جورجیا کے دو صوبوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کی مکمل آزادی کی حمایت کی ہے۔
اس معاملے پر پارلیمان کے ایوان زیریں میں ووٹنگ جلد ہی ہونے والی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی ارکان پارلیمان ووٹنگ کی پابند نہیں ہے لیکن ملک کے صدر ڈمٹری مادودیو کو مغربی ممالک سے اس بارے میں حمایت لینے اور بات چیت کرنے میں مدد ضرور ملے گی۔
روس کی فیڈریشن کونسل میں دونوں خطوں کی آزادی کی حمایت کرنے کے لیے 130 ممبران نے ووٹ ڈالے۔
روس کی ایوان بالا کے سپیکر سرجی مریونوا نے کہا کہ ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کو آزاد ممالک بننے کے سارے ضروری تقاضے پورے کرتے ہیں۔
ابخازیہ کے لیڈر سرجی باگاپش اور جنوبی اوسیٹیا کے رہنما ایدورد کوکائٹی نے روس کے قانون سازوں سے کئی بار اپیل کی ہے وہ دونوں خطوں کو آزاد خطوں کے طور پر تسلیم کریں۔
مسٹر باگاپش نے کہا ’ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کے لیے یہ ایک تاریخی دن ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا
کو آزاد خطے قبول کرلیا جاتا ہے تو وہ جورجیا کا حصہ نہیں رہیں گے جو کہ دونوں خطوں کے لیے ایک بڑی جیت ہے۔
|
یہ ایک تاریخي دن ہے
|
جنوبی اوسیٹیا میں علیحدگی پسند انتظامیہ انیس سو نوے کی خانہ جنگی کے بعد سے باضابطہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایدورد کوکائٹی نے حالیہ تشدد کے دوران روس کی جنوبی اوسیٹیا کی مدد کرنے کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جورجیا کے ساتھ لڑائی میں روس کا اپنی فوج کو تعینات کرنا صحیح وقت پر ایک پُرحوصلہ قدم تھا۔
انکا مزيد کہنا تھا کہ جنوبی اوسیٹیا اور ابخازيہ کو کوسوو سے زيادہ آزادی کا حق ہے۔ واضح رہے کہ اس سال امریکہ اور یورپی یونین کی مدد کے بعد کوسوو نے سربیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار ہمپری ہاکسلے کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ انیس نوے سے اپنی خود مختاری اور اپنے آپ کو
آزاد خطوں کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان کے تئین روس کا رویہ مغرب ممالک سے جدا نہیں رہا ہے۔
|
روس کا پُرحوصلہ مند قدم
|
بی بی سی کے ہمپری ہاکسلے کا کہنا ہے کہ چونکہ روس جورجیا کے معاملے میں مغربی ممالک سے بڑی سطح پر بات چیت کر رہا ہے تو وہ اس بل کی منظوری میں تھوڑی تاخیر کرسکتا ہے۔
روسی پارلیمان کی منظوری کے بعد دونوں خطے کی اپنی آزادی کو تسلیم کرانے کے لیے اقوام متحدہ سے اپیل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ روس کے اتحادی ممالک جیسے وینزویلا اور کیوبا سے بھی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔
حال ہی میں روس اور جورجیا کے درمیان لڑائی میں روس نےابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا پر فوجی چڑھائی کرکے قبضہ کرلیا تھا اور اس کی فوجیں جورجیا کے دارالحکومت کی طرف مارچ کر رہی تھیں جب فرانس نے پہل کر کے امن معاہدہ کرایا تھا۔