Thursday, 21 August, 2008, 17:46 GMT 22:46 PST
عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زبیری نے کہا کہ امریکہ اور ان کا ملک امریکی فوجوں کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کے بعد انہوں نے بتایا کہ دونوں جانب سے دوہری کوششیں کی جاری ہیں کہ بات چیت کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
امریکی وزیرخارجہ نے اس موقع پر کہا کہ وہ اس بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتیں لیکن یہ ہے کہ جو بھی معاہدہ ہو گا وہ عراق کی خود مختاری اور اس کے قوانین کے مطابق ہو گا۔
امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس امریکی فوجوں کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کے لیے جمعرات کو صبوح اچانک عراق پہنچی تھیں۔
ان کی آمد پر بتایا گیا تھا کہ اس غیر اعلانیہ دورے کے دوران وہ وزیراعظم نوری المالکی اور دیگر عراقی قیادت سے تبادلۂ خیال کریں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران عراق میں امریکی افواج کی حیثیت کے سلسلے میں بغداد اور واشنگٹن کے دوران ہونے والے مذاکرات کو مشکلات کا شکار قرار دیا جاتا رہا ہے۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسپین تھورولڈ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مرکزی موضوع امریکی افواج کی حتمی واپسی کے نظام
الاوقات اور امریکی فوجیوں کے خلاف کسی عراقی قانون کے تحت مقدمات سے عام معافی پر اختلافات شامل تھے۔
|
زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے
|
اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں کسی بھی نظام الاوقات کی خواہش کرتے ہوئے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔
عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں جو بھی معاہدہ ہو گا اس کی لازمی منظوری امریکی صدر، وزیراعظم مالکی اور عراقی پارلیمنٹ دے گی۔
اس دوران لبنان کے وزیرِاعظم فواد السنیورہ نے عراق میں اپنے عراقی ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔ عراق میں صدام حسین کا اقتدار ختم ہونے کے بعد یہ لبنانی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہے۔
لبنانی وزیراعظم کا دورہ اردن کے شاہ عبداللہ کے بعد ہو رہا۔ شاہ عبداللہ دو ہزار تین کے بعد عراق کا دورہ کرنے والے پہلے عرب سربراہِ مملکت تھے۔