Tuesday, 19 August, 2008, 02:20 GMT 07:20 PST
نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس میں جورجیا میں روس کی فوجی کارروائی پر اتحاد کے ردعمل کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کو جورجیا پر فوج کشی کی ’سزا‘ دینے کے حوالے سے نیٹو ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق ایک جانب امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور مشرقی یورپ کے زیادہ تر ممالک ممکنہ طور پر روس سے سختی سے پیش آنے کو کہیں گے تو وہیں فرانس اور جرمنی سمیت مغربی یورپ کے زیادہ تر ممالک روس سے اپنے تعلقات بگڑنے کے خیال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محتاط رویے کا مظاہرہ کریں گے۔
اس اجلاس کے آغاز سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کو روس کو جورجیا پر فوج کشی سے کسی قسم کا سٹریٹیجک فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہیے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز جاتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ ہمیں روسی سٹریٹجک مقاصد کو پورا ہونے سے روکنا ہوگا جو کہ واضح طور پر جورجیا میں جمہوریت کی نفی کرنا، فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جورجیا کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا یا پھر اسے تباہ کرنا ہیں‘۔
ادھر روس نے جورجیا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کی فوج وعدے کے مطابق جورجیا کی سرزمین سے واپس نہیں جا رہی ہے۔دارالحکومت تبلیسی میں موجود جورجیا کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ روسی فوج جورجین زمین چھوڑ رہی ہے تاہم روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ فوج کی واپسی شروع ہو گئی ہے اور یہ عمل آنے والے چند دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔