Tuesday, 19 August, 2008, 11:09 GMT 16:09 PST
افغانستان اور فرانسیسی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مشرق میں طالبان سے جھڑپ میں دس فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ ہلاکتیں کابل کے قریب طالبان اور فوج کے درمیان نیٹو کے ایک فوجی بیس پر حملے کے بعد جاری لڑائی کے دوران ہوئی ہیں۔ اس حملے کے دوران اکیس فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والی فرانسیسی فوجی نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کے رکن تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب سے فرانس نےافغانستان میں اپنی فوج بھیجی ہے تب سے اب تک یہ ہلاکتیں فرانسیسی فوج کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہیں۔
ادھر کابل میں سخت سکیورٹی کے باوجود منگل کی صبح ایساف کے صدر دفتر کے قریب دو راکٹ داغے گئے۔ قندھار کے جنوبی صوبے میں نیٹو کے فوجی بیس پر بم سے حملہ ہوا۔ اس کے علاوہ ملک کے شمال جنوبی صوبہ خوست میں نیٹو کی ایک فوجی بیس پر کیے جانے والے حملے میں کم از کم چھ مبینہ خود کش حملہ آور ہلاک ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ سالرنو میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں تعینات زیادہ تر فوجی امریکی ہیں۔
اس سے پہلے پیر کو نو افغان شہری اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک خود کش حملہ آور نے اسی بیس کے دروازے پر حملہ کیا تھا۔ افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والے اس حملے میں تیرہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
بی بی سی کے افغاستان میں نامہ نگار الیسٹر لیتھہیڈ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس طرح کے حملے روز کی بات ہوگئی ہے اور اس یہ بات واضح ہوتی ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کا نظام کمزور پڑ گیا ہے۔ اس سال افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان نے بین الاقوامی اور افغان فوج پر اپنے حملے شدید کر دیے ہیں۔