http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 18 August, 2008, 01:56 GMT 06:56 PST

روس پر انخلاء کے لیے عالمی دباؤ

مغربی ممالک نے روس پر جورجیا سے پیر کو روسی فوج کے انخلاء کے وعدے کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے اور جورجیا اور روس کے درمیان جنگ بندی کروانے والے فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ اگر روس نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو اسے’سنگین‘ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ اور جرمنی نے بھی روس سے کہا ہے کہ وہ جورجیا کی سرزمین سے اپنی فوج نکال لے۔

جورجیا اور جنوبی اوسیٹیا کا مسئلہ
جورجیا اور اوسیٹیا مسئلہ ہے کیا؟

یاد رہے کہ روس کے صدر دمیتری میدویدیو نے اتوار کو فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فوجیں پیر سے جورجیا سے انخلاء شروع کر دیں گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ جورجیا سے نکلنے والے فوجی واپس روسی حدود میں آ جائیں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ روسی فوج جنوبی اوسیٹیا میں رکے گی۔

فرانسیسی صدر نے اتوار کو کہا کہ اگر روس(فوجی انخلاء کے) وعدے کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کا روس اور یورپی یونین کے تعلقات پر’گہرا اثر‘ پڑے گا۔ پیر کو شائع ہونے والے ایک اخباری کالم میں بھی فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ اگر روس تیزی سے مکمل فوجی انخلاء پر عملدرآمد نہیں کرتا تو وہ یورپی یونین کونسل کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیں گے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نمائندہ سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ روسی پیشکش جنگ بندی کی شرائط سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان شرائط کے تحت روسی فوج کو اس پوزیشن پر جانا ہے جہاں وہ اس جھگڑے کے آغاز سے قبل موجود تھی۔

امریکی وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائس نے بھی این بی سی ٹی وی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایک بین الاقوامی ساتھی کے طور پر روسی کی شبیہ’تار تار ہو چکی ہے‘۔ انخلاء کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ روسی صدر اپنی بات کا پاس کریں گے۔

جورجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں موجود بی بی سی کی ہیلن فاکس کا کہنا ہے کہ جورجیا کے عوام روس کی جانب سے انخلاء کے اعلان پر تذبذب کا شکار ہیں۔ جورجیا کے ایک سینئر سرکاری اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر اسی صورت میں یقین کریں گے جب وہ اسے اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھیں گے۔