Monday, 18 August, 2008, 15:12 GMT 20:12 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے پر رد عمل ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دوست رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جسے اپنے ملک کی فوری ضروریات پر توجہ دگنی کرنے کی ضرورت ہے، جن میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی مستحکم، خوشحال اور جدید جمہوری مسلم مملکت بننے میں مدد کرے گا۔
انڈیا نےجنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور کوئی رد عمل نہیں دیا۔ انڈیا نے کہا کہ کہ وہ ایک مستحکم پاکستان کا خواہاں ہے۔
برطانوی حکومت نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اقدامات، انڈیا کے ساتھ مذاکرات اور کرپشن کے خاتمے میں سابق صدر مشرف نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ترجمان نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ’ہم ان کے لیے اچھے مستقبل کے خواہاں ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کا انحصار شخصیات پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جن سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قانون کی بالادستی قائم ہو۔