Thursday, 14 August, 2008, 23:49 GMT 04:49 PST
پولینڈ اور امریکہ کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوگیا ہے جس کے تحت پولینڈ میں امریکی میزائل شیلڈ تعینات کیے جائیں گے۔
روس یورپ میں میزائل شیلڈ کی تعیناتی کے امریکی منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ امریکہ اور یورپ کو خطرناک ممالک کے میزائل حملوں سے تحفظ فراہم کرے گا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان جورجیا کے معاملے پر جو کشیدگی پائی جارہی ہے وہ پولینڈ میں میزائل شیلڈ کے منصوبے سے اور بڑھ جائے گی۔
روس کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ کے نتیجے میں یورپ میں فوجی طاقت کا توازن بکھر جائے گا۔ روس نے وارننگ دی ہے کہ ایسی صورت میں اس کے پاس امریکی میزائل شیلڈ کی جانب اپنے میزائل کا رخ کرنا پڑسکتا ہے۔
جورجیا میں روسی مداخلت کے بعد پولینڈ کے حکام نے بتایا کہ امریکہ ان کے موقف کا حامی ہوگیا ہے۔ پولینڈ روس کو اپنی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ کی ضرورت ایران جیسے ’روگ اسٹیٹ‘ یعنی خطرناک ممالک کیوجہ سے ہے۔
اطلاعات کے مطابق جیسے ہی پولینڈ اور امریکہ کے درمیان میزائل شیلڈ کی تعیناتی سے متعلق معاہدے کی بات سامنے آئی، روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے پولینڈ کا اپنا پہلے سے طےشدہ دورہ منسوخ کردیا۔
معاہدے پر دستخط ہونے سے قبل اس کے بارے میں پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے قومی ٹیلی ویژن پر اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ دس میزائل کی تعیناتی کے عوض پولینڈ کے کئی مطالبات ماننے کے لیے تیار ہوگیا ہے۔
معاہدے کے تحت امریکہ پولینڈ کی افواج کو جدید تربیت اور اسلحے فراہم کرے گا اور پولینڈ میں امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ امریکہ پیٹریاٹ میزائل بھی دےگا جن سے پولینڈ کی فضائی دفاع مضبوط ہوگا۔
اس سے قبل جولائی میں امریکہ نے چیک جمہوریہ سے بھی ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت میزائل شیلڈ کا نظام قائم کیا جائے گا اور
ایک رڈار بھی نصب کیا جائے گا۔