http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 14 August, 2008, 12:56 GMT 17:56 PST

امدادی ایجنسی نے کام روک دیا

افغانستان میں اس بین الاقوامی امدادی ادارے نے بیس سال کے بعد اپنا روک دیاہے جس میں کام کرنے والی تین خواتین کو بدھ کو ان کے ڈرائیور سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والی خواتین کا تعلق امریکہ کینیڈا اور آئر لینڈ سے تھا اور وہ انٹرنیشل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کے لیے کام کرتی تھیں۔

آئی آر سی کے کارکن جنوب مشرقی علاقے گردیز سے کابل آ رہے تھے۔

افعانستان میں جاری تنازع کے دوران امدادی اداروں کے کے لیے کام کرنے والوں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی ان پر حملہ کیا جاتا ہے اور کبھی ان کو اغوا اور ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

بدھ کو ہونے والے اس حملے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک اور افغان ڈرائیور بھی شدید زخمی ہوا ہے۔

لوگ کے پولیس کے نائب سربراہ عبدل ماجد لطیفی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا گروپ کی گاڑی پر صاف لکھا تھا کہ یہ آئی آر سی کی گاڑی ہے۔

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ امدادی کارکن غیر ملکی جاسوس تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گروپ افغانستان کے مفاد میں کام نہیں کر رہا تھا۔

آئی آر سی کے صدر گورگ رپ نے کہا ہے کہ ’ہلاک ہونے والے افراد کے خاندان اور چاہنے والوں اور افغانستان میں پوری لگن سے امدادی کام کرنے والوں کے لیے ہمدردی کے لیے جتنے بھی الفاظ استعمال کیے جائیں وہ کم ہیں۔‘

کینیڈا کے وزیرِ اعظم سٹیفن ہارپر نے بھی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔

جنوبی افغانستان میں عدم سلامتی کی اس صورتِ حال کے باعث اکثر صوبوں میں امدادی اداروں کے کیے کام جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے جب کہ تشدد مزید علاقوں میں پھیلتا جا رہا ہے۔

کابل کے جنوبی صوبہ لوگر کو اس سے پہلے مقابلتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے لیکن اب وہاں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے اب لوگر کو ان صوبوں میں شامل کر دیا ہے جنہیں انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔