Thursday, 14 August, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
روسی افواج نےگوری شہر کے آس پاس کے علاقوں کا کنٹرول جورجیا کے سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنا شروع کردیاہے لیکن روس کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس علاقے میں فوجیں کچھ روز تک مزید رکیں گی۔
گوری کے علاقے میں تعینات ایک روسی جنرل کا کہنا ہے کہ علاقے کو ہتھیاروں سے خالی کرانے اور بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے فوجیوں کو ابھی کچھ روز تک وہاں رکنا پڑےگا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے گزشتہ رات ماسکو پر اس بات کے لیے زوردیا تھا کہ وہ جورجیا سے اپنی فوجیں پوری طرح واپس بلانے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔
جورجیا نے جنوبی اوسیٹیا کے شورش زدہ علاقے پرگوری سے ہی حملے شروع کیے تھے اور لڑائی کی حیثیت سے یہ شہر اب بھی مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
جنوبی اوسیٹیا میں حملے کے بعدروس نے پیر کو شہر پر فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران شہر پر بھی بمباری کی گئی اور منگل کو فوجی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔
گوری میں بی بی سی کے نامہ نگار جبرائیل گیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ماسکو اس بات پر مصر ہے کہ اس کی موجودگی اس لیے ضروری ہے کہ مناسب طریقے سے کنٹرول جورجیا کے حوالے کیا جا سکے اور استمعال نہ کیے گئے گولہ بارود کو بھی وہاں سے ہٹایا جا سکے۔
اس دوران بدھ کی رات بھی بہت سے لوگوں کو دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہوتے دیکھا گيا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی موجودگی کے سبب لوٹ مار کرنے والے بھی شہر میں نظر نہیں آئے۔
جورجیا کی پولیس کو کنٹرول سونپنے میں مدد دینے والے روسی فوج کے جنرل نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آجائیں اور اپنی دکانیں اور کاروبار دوبارہ کھول لیں۔