جورجیا اور روس کی فوجوں میں علیحدگی اختیار کرنے والے صوبے جنوبی اوسیٹیا پر شدید لڑائی کے دوران جورجیا کے حکام نے اعلان کیا
ہے کہ وہ جنوبی اوسیٹیا سے اپنی فوجیوں واپس بلا رہا ہے۔
اس اثناء روس کے جنگی بحری جہازوں نے بحیرہ اسود کے ساحل پر جورجیا کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا ہے جہاں سے گندم اور تیل کی درآمدات کو روکا جا رہا ہے۔
روس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ تیل کی ترسیل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کا اختیار رکھتے ہیں کہ کسی بھی جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لیں۔
یوکرین نے دھمکی دی ہے کہ وہ روس کے جنگی جہازوں کو سیواستوپول کی بندگارہ میں نہیں آنے نہیں دیں گے۔ بحریہ اسود میں یہ بندگارہ
یوکرین اور روس کی فوجیوں مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔
جورجیا کے ایک اعلی اہلکار شوتا اوتیشاولی نے کہا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا کا مرکزی شہر شیخنوالی اب مکمل طور پر روسی فوجوں کے قبضے
میں ہے۔
جورجیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسے فوجی شکست کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اوسیٹیا سے شہری اور فوجی جانی نقصان سے بچنے کے لیے نکالا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جورجیا کو اب بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جورجیا کے ایک سو فوجی ہلاک جب کہ بہت سے زخمی ہو گئے ہیں۔
جورجیا پر روسی حملہ جورجیا کی طرف سے جنوبی اوسیٹیا ایک ہفتے قبل چڑہائی کے جواب میں کیا گیا تھا۔
جورجیا نے کہا ہے کہ روس نے دس ہزار مزید فوجی سرحد پار سے علاقے میں پہنچا دیئے ہیں۔
جورجیا نے الزام لگایا ہے کہ روس نے اس کے دارالحکومت تبلیسی کے قریب واقع فوجی ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔
![]() |
|
| جورجیا نے جنوبی اوسیٹیا پر گزشتہ ہفتے حملہ کیا تھا |
جورجیا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائرز الیگزینڈر لومیا کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد فوجی ائیرپورٹ کے رن وے کو نقصان پہنچانا تھا۔
قبل ازیں جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی نے فوری طور پر جنگ بندی کے لیے یہ کہتے ہوئے زور دیا تھا کہ مسلح کشیدگی ان کے ملک میں جمہوریت کو ختم کر سکتی ہے۔
جورجیا اور جنوبی اوسیٹیا کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ان کی طرف ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے قریب ہے۔ ماسکو کے مطابق اس میں بہت کم شہری شامل ہیں۔
روس کے وزیر اعظم ولادی میر پوتن نے جورجیا میں براہ راست روس کی طرف سے فوجی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے جورجیا پر جنوبی اوسیٹیا کے لوگوں کی نسل کشی کا الزام لگایا تھا۔
سنیچر کو روس کے وزیر اعظم نے جنوبی اوسیٹیا کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹے سے قبضے کا دورہ کیا جہاں جنوبی اوسیٹیا کے لوگ بڑی تعداد میں پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے حل کے بعد جنوبی اوسیٹیا میں کبھی بھی جورجیا کے ساتھ نہیں رہ سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے چونتیس ہزار لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق چوبیس ہزار لوگ جنوبی اوسیٹیا کو چھوڑنے پر مبجور ہوئے ہیں جبکہ جورجیا کے دوسرے حصوں سے چار سے پانچ ہزار لوگوں نے سرحد پار کرکے روس میں پناہ لی ہے۔
اس دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا تیسرا ہنگامی اجلاس جنگ بندی کی قرارداد کی زبان پر اختلاف کی وجہ سے کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔