Friday, 08 August, 2008, 11:04 GMT 16:04 PST
جارجیا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے علیحدگی پسند جنوبی آوستیا کا گھیراؤ کر لیا ہے جبکہ روس نے مزید جارحیت کی صورت میں جارجیا کو کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شکنولی کے اطراف میں رات کو لڑائی شروع ہو گئی تھی اور گولہ باری جاری ہے۔
جارجیا کے صدر میخائل ساکیشولی نے ریزرو فورس کو بھی لڑائی میں شامل ہونے کا کہا ہے اور روس پر الزام عائد کیا ہے کہ روسی جہاز جارجیا پر بمباری کر رہے ہیں۔ تاہم اس الزام کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اس لڑائی میں کم از کم پندرہ شہری اور متعدد روسی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
شکنولی کے رہائشی تہہ خانوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
جنوبی آوستیا میں روسی امن فوج کے ترجمان نے انٹرفیکس کو بتایا کہ جارجیا نے امن فوج کے بیرکس پر گولہ باری کی جس سے متعدد روسی امن فوج کے اہلکار ہلاک ہو گئے۔
جارجیا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند جنگجوؤں کے حالیہ حملے بہت بڑھ گئے تھے جس کی وجہ سے امن قائم کرنے کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ ’امن قائم ہوتے ہی ہم مذاکرات شروع کریں گے۔‘
روس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ سکیورٹی کونسل نے دونوں فریقوں سے طاقت کے استعمال سے باز رہنے کا کہا ہے۔
روسی صدر متری میدادوف نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور وزیر اعظم پوتن نے کہا ہے کہ جارجیا کی جارحیت کا معقول جواب دیا جائے گا۔
بی بی سی کے جیمز راجر نے بتایا کہ روس کا کہنا ہے کہ وہ جارجیا کی سرحدی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن اس کو اپنے شہریوں کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ بہت سے جنوبی آوستیا کے پاس روسی پاسپورٹ ہیں۔
روس اور ابخازیا سے سینکڑوں جنگجو علیحدگی پسند جنگجؤں کا ساتھ دینے کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
جنوبی آوستیا کے قائد ایڈورڈ نے انٹرفیکس کو بتایا کہ شکنولی ان کے کنٹرول میں ہے جب کہ جارجیا کا دعویٰ اس کے مخالف ہے۔