Wednesday, 06 August, 2008, 08:52 GMT 13:52 PST
دنیا کے بیس ممالک کا سفر کرنے کے بعد اولمپکس مشعل کو آخری مرحلے میں بیجنگ کی گلیوں سے گزارا گیا۔
مشعل لے کر روانہ ہونے والے کھلاڑی شہرِ ممنوعہ چھوڑتے ہوئے جمعے کو بیجنگ اولمپکس کے باقاعدہ آغاز سے قبل اسے اہم مقامات پر لے جائیں گے جن میں تاریخی تیانامن سکوائر بھی شامل ہے۔
بدھ کے دن اولمپک مشعل کا سفر شروع ہونے پر عوام نے اس کا پرجوش استقبال کیا۔
چین کی باسکٹ بال ٹیم کے ایک بہترین کھلاڑی یو منگ مشعل کو تیانامن سکوائر تک لے کر گئے جس کا لوگوں نے شاندار طریقے سے استقبال کیا۔
سترہ لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس شہر میں تین دن کے مشعل کے سفر میں آٹھ سو سے زیادہ مشعل بردار حصہ لے رہے ہیں۔
اس سے قبل منگل کے روز مشعل نے چین کے زلزلہ زدہ صوبے سچوان کا دورہ کیا جہاں زلزلے میں مرنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
چینی حکام نے ژن یانگ صوبے میں مشتبہ علیحدگی پسند مسلمانوں کے ایک حملے میں سولہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے پس منظر میں اولمپکس کھیلوں کے باقاعدہ آغاز سے پہلے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ تمام کھلاڑی اور تماش بین محفوظ رہیں۔
اولمپکس کھیلوں کے منتظمین کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’چین نے اولمکس کھیلوں کے مقامات اور کھلاڑیوں کی سکونت کے لیے مختص اپارٹمنٹس یعنی اولمپک ویلیج کے حفاظتی انتظامات سخت کردیے ہیں اور بیجنگ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔،
چین کے دوسرے میزبان شہر شنگھائی میں حکام کا کہنا ہے کہ اولمپک گیمز تک شہر کے میٹرو سٹیشنز پر تمام دکانیں اور کاروبار بند رہیں گے۔
چوبیس جون کو یونان میں روشن کی جانے والی یہ مشعل چھ براعظموں کا ایک لاکھ سینتیس ہزار کلومیٹر طویل سفر کے بعد چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچی۔
مشعل کے اس سفر کے دوران چین میں انسانی حقوق کی صورتحال اور تبت کے لیے اس کی پالیسیوں کی وجہ سے بیجنگ کے خلاف مظاہروں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔