Tuesday, 05 August, 2008, 11:39 GMT 16:39 PST
ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار بارک اوباما نے امریکی ذخائر سے مزید تیل مارکیٹ کر کے تیل کی قیمت میں کمی لانے کا کہا ہے۔
یہ بات انہوں نے توانائی کے منضوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔ توانائی کی قیمت میں اضافے کامسئلہ دونوں صدارتی امیدواروں کے لیے صدارتی انتخابات سے پہلے اولین ترین ہے۔
اوباما کے منصوبے کے مطابق فیڈرل ذخائر میں سے ستر ملین بیرل مارکیٹ میں لایا جائے گا جس سے امریکہ میں تیل کی قیمت میں کمی ہو گی اور استعمال کردہ ذخائر کو بعد میں پورا کیا جائے۔
یاد رہے کہ اوباما ماضی میں ایمرجنسی ذخائر کے استعمال کے خلاف تھے۔ تاہم اوباما کی ترجمان ہیتھر نے کہا ’انہوں نے اس معاملے پر دوبارہ غور کیا ہے اور ان کو معلوم ہے کہ امریکی عوام کو تیل کی قیمت میں اضافے کے سبب مشکلات درپیش ہیں۔‘
واضح رہے کہ تیل کا ایشو صدارتی دوڑ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
اوباما نے اپنے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ایک اشتہار بھی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ صدارتی امیدوار میک کین تیل کی بڑی کمپنیوں کے زیرِ اثر ہیں۔
اس اشتہار میں میک کین کو جارج بش کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے ’ایک صدر کے تیل کمپنیوں کی جیب میں جانے کے بعد ہم ایک اور صدر کے بھی ان کی جیب میں جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘
دوسری طرف میک کین صدارتی کیمپ نے اوباما کے منصوبے کے بارے میں کہا ہے ’تیل کے ذخائر کا استعمال نئے ذخائر ڈھونڈنے کا متبادل نہیں ہے۔‘