Saturday, 02 August, 2008, 18:17 GMT 23:17 PST
عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے عوض مزید پابندیاں نہ لگانے کی پیشکش پر جواب دینے کے لیے دی گئی مدت ختم ہو گئی ہے تاہم ایران کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
انیس جولائی کو ایران کو اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کی کی پیشکش کی گئی تھی اور اس سلسلے میں جواب دینے کے لیے اسے چودہ دن کی مہلت دی گئی تھی جو اب ختم ہو گئی ہے۔
سنیچر کو جرمنی کے وزیرِ خارجہ ہوگا۔فرینک والٹر سٹینمائر نے ایران کو ایک مرتبہ پھر متنبہ کیا تھا کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کی بین الاقوامی پیشکش کا ’واضح جواب‘ دے اور وقت ضائع کرنے سے گریز کرے۔
فرینک والٹر سٹینمائر نے ایک جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’میں ایک بار پھر ایران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وقت ضائع کرنا ترک کر دیں اور ہماری پیشکش کا ایسا جواب دیں جس پر عمل کیا جا سکے‘۔
اس پر آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم نے دو ہفتے کی کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق یا بات نہیں کی تھی‘۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تین مرحلوں میں ایران پر پابندیاں عائد کر چکی ہے اور امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے حالیہ پیشکش قبول نہ کی تو چوتھے مرحلے کی پابندیاں بھی لگا دی جائیں گی۔