Tuesday, 29 July, 2008, 08:32 GMT 13:32 PST
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین میں اولمپک کھیلوں کے انعقاد سے انسانی حقوق کی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئی ہے۔
چین کی حکومت نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ پر ابھی تک اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم وہ عام طور پر ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
ایمنسٹی نے اپنی دستاویز میں کئی طرح کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی کارکنان کی جیل میں قید، لوگوں کو بےگھر کرنا، صحافیوں کو حراست میں رکھنا، ویب سائٹوں کو بلاک کرنے اور جیلوں میں پٹائی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایمنسٹی کی ڈپٹی پروگرامر روزیانہ رائف کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے دیکھا کہ اولمپکس کی وجہ سے انسانی حقوق بدتر ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مقامی کارکنان کے خلاف کاروائیوں اور میڈیا پر سینسرشپ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘
تنظیم کے ایک ترجمان مارک الیزن نے اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
’ہم پھر ان عالمی رہنماؤں سے، جو کھیل کی تقریب میں شرکت کا منصوبہ رکھتے، کہتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ وہ حکام جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ اس سے باز رہیں۔‘
چین نے انسانی حقوق، پریس کی آزادی، صحت اور تعلیم کے لیے سہولیات کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایمنسٹی کے مطابق ہوا سب کچھ اس کے برعکس ہے۔
چینی تنظیم ’چائنا سوسائٹی آف ہیومن رائٹس سٹڈیز‘ نے اس طرح کی نکتہ چینی کو پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ اس تنظیم کے زئانگ لی کا کہنا ہے’ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ چین میں انسانی حقوق کی صورت حالت مزید خراب ہوگئی ہے لیکن یہ بیشتر چینی عوام کے احساسات کے بر عکس ہے۔‘
چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دنیا کے کئی رہنما وقتاً فوقتاً آواز اٹھاتے رہے ہیں۔