Saturday, 26 July, 2008, 06:10 GMT 11:10 PST
عالمی منڈی میں اس ماہ تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس اعشاریہ دو سات ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ بلندی کے بعد نیچے آ رہی ہے اور تیل کی قیمت میں گزشتہ سات ہفتوں کی سب سے بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔
جمعہ کو امریکہ میں خام تیل کی قیمت بیس ڈالر فی بیرل نیچے گرتے ہوئے ایک سو تئیس اعشاریہ دو چھ ڈالر فی بیرل تھی۔ جبکہ لندن میں خام تیل جمعہ کو ایک سو چوبیس اعشاریہ پانچ دو ڈالر فی بیرل پر تھی۔
تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد امریکی معیشت میں سستی آنے کی وجہ سے تیل کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
تحقیقی ادارے لیہمین برادرز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ دو ہزار نو تک تیل کی قیمت ایک سو ڈالر فی بیرل سے کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم ایک دوسرے ادارے بی این پی پریباس سے متعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ہیری چلِنگوئریئن کا خیال تھا کہ ابھی معیشت کی بنیادی محرکات میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔
گیارہ جولائی 2008 کو ایک بیرل تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر تھی جو عالمی منڈی میں تیل کی سب سے زیادہ قیمت تھی۔ گیارہ جولائی کے بعد تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔
سن دو ہزار تین کے بعد تیل کی قیمت میں چھ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیس ڈالر فی بیرل تھی۔ مئی دو ہزار سات میں ایک بیرل تیل کی قیمت پینسٹھ ڈالر تھی جو جولائی دو ہزار آٹھ میں بڑھ کر ایک سو سینتالیس ڈالر ہوگئی تھی۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا موقف ہے کہ سٹے بازوں اور کمزورامریکی ڈالر کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی وجہ امریکی معیشت کی سست روی بھی ہے۔
دریں اثناء امریکہ میں بازار حصص کے انتظامی ادارے یو ایس کوموڈیٹی فیوچرس ٹریڈِنگ کمیشن نے نیدرلینڈ کی ایک تیل کمپنی آپٹیور اور اس کے تین ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہے کیونکہ وہ خام تیل کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کر رہے تھے۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے مدنظر کمیشن نے ایسے افراد کے خلاف کارروائیوں کی دھمکی دی ہے جو بازار حصص میں مصنوعی مانگ پیدا کرکے تیل کی قیمتیں بڑھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ آپٹیور کے ملازمین نے گزشتہ مارچ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی انیس کوششیں کی جن میں پانچ کامیاب ہوئیں اور انہیں ایک ملین ڈالر کا فائدہ ہوا۔