Thursday, 24 July, 2008, 23:59 GMT 04:59 PST
امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ پھر سے اکٹھے ہو جائیں۔
دورۂ یورپ کے دوران جرمنی کے شہر برلن میں دو لاکھ افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما کا کہنا تھا کہ’ اگر ہم ایمانداری سے سوچیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ ایسا وقت آیا ہے کہ جب بحرِ اوقیانوس کے دونوں طرف بسنے والے لوگوں کے درمیان کھنچاؤ پیدا ہوا اور ہم اپنی مشترکہ قسمت کو بھول گئے‘۔
یورپ اور امریکہ کے درمیان شراکتی تعلقات کے احیاء کی بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ دہشتگردی، جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ، تجارتی رکاوٹیں اور گلوبل وارمنگ عالمی مسائل ہیں۔
اوباما کے خطاب کو جرمنی میں براہ راست دکھایا گیا۔ اس سے قبل جرمنی کی چانسلر نے اپنی جماعت کی تجویز رد کردی تھی کہ اوباما کا خطاب برینڈنبرگ گیٹ پر ہو جسے سرد جنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ برینڈنبرگ گیٹ پر انیس سو ستاسی میں رونالڈ ریگن نے سوویت سربراہ میخائل گورباچوف سے مطالبہ کیا تھا کہ دیوارِ برلن کو گرا دیا جائے۔
بی بی سی کے سٹیو روزنبرگ کا کہنا ہے کہ اوباما کو جرمنی میں بہت پسند کیا جاتا ہے اور تین چوتھائی عوام چاہتے ہیں کہ اوباما ہی امریکہ کے اگلے صدر ہوں۔
اوباما جرمنی کے دورے کے بعد جمعہ کو فرانس اور سنیچر کے روز برطانیہ پہنچیں گے۔
اوباما برلن میں سخت سکیورٹی انتظامات میں اسرائیل اور مغربی کنارے کے دورے سے پہنچے۔ ایک اطلاع کے مطابق جس ہوٹل میں اوباما نے ٹھہرنا ہے وہاں پر ایک مشکوک پارسل ملنے کے بعد اس کو عوام کے لیے بند کردیا گیا ہے۔