Monday, 21 July, 2008, 00:24 GMT 05:24 PST
امریکہ کے صداراتی امیدوار باراک حسین اوباما نے کہا ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ اپنی ساری توجہ افغانستان میں القاعدہ کے خلاف جنگ پر مرکوز کریں گے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار باراک اوباما امریکی عوام کو یقین دلانے کے لیے کہ وہ خارجہ پالیسی کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ملک سے باہر نکلے ہیں۔
باراک حسین اوباما اپنے غیر ملکی دورے کے دوران افغانستان، عراق، اردن، اسرائیل، جرمنی، فرانس اور برطانیہ بھی جائیں گے۔
باراک اوباما نے کہا کہ بش انتظامیہ نے دہشگردی کےخلاف جنگ کے دوران اپنی توجہ ایک اور ایسی جنگ پر مرکوز کر لی جس سے بچا جا سکتا تھا۔
اوبامہ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بش انتظامیہ کی غلطی کی تلافی کی جائے۔
باراک اوباما نے افغانستان کے دروے سے قبل سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ کرزئی حکومت ابھی تک بنکر سے باہر نہیں نکلی ہے اور اس نے ملکی اداروں کو مضبوط کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔
اس دورے پر باراک اوباما کے ساتھ امریکی ٹی وی چینلوں کی پوری ٹیم سفر کر رہی ہے۔ حامد کرزئی سے دو گھنٹوں کی ملاقات کے بعد باراک اوباما نے ذرائع ابلاغ سے کوئی بات نہیں ہے۔
باراک اوباما نے غیر ملکی دورے پر روانہ ہونے سے قبل کہا تھا کہ وہ ایک سینیٹر کی حیثیت سے غیر ملکی دورہ کر رہے ہیں اور وہ اس موقع پر کوئی پیغام نہیں دینا چاہیں گے۔’میں وہاں ایک سینیٹر کی حیثیت سے جا رہا ہوں۔ امریکہ میں ایک وقت میں ایک ہی صدر ہوتا ہے اور اس طرح کے پیغامات دینا صدر کا کام ہے۔‘