http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 18 July, 2008, 11:08 GMT 16:08 PST

امریکہ کی شرکت مثبت قدم: ایران

ایران نے امریکہ کی جانب سے اس کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایران امریکہ تعلقات میں بہتری کے آثار

دمشق کے دورے پر ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ تہران اس کانفرنس میں مثبت بات چیت کا خواہاں ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی کانفرنس میں امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیم برنز شرکت کریں گے۔ وہ جنیوا میں ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانا کی ملاقات میں بھی شریک ہوں گے۔

بی بی سی کے تہران میں نامہ نگار جون لِن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایٹمی تنازع کو حل کرنے کے لیے اقدام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیاس ہے کہ ایران مغرب کی طرف سے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کچھ شرائط مان لے گا اور اس کے بدلے میں تہران پر عائد نئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

ادھر امریکہ کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کے اعلان پر فرانسیسی وزیرِ خارجہ برنارڈ کچنر نے ویانا میں کہا ہے کہ ’امریکہ کی شمولیت ایک مثبت قدم ہے اور یہ انتہائی دلچسپ صورتحال ہے کہ ہمارے امریکی دوست اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔‘

امریکہ ان چھ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کو ایٹمی پروگرام کی معطلی سے مشروط کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے ماضی میں ایرانی حکام کے ساتھ ایٹمی تنازع پر براہ راست بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔

اور گزشتہ دنوں برطانوی اخبار گارڈین میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق امریکہ آئندہ ماہ تہران میں اپنا ایک سفارتی دفتر کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے توگزشتہ تیس سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی امریکی سفارت کار ایران بھیجا جائے گا۔