Wednesday, 16 July, 2008, 07:52 GMT 12:52 PST
اسرائیلی فوج نے تصدیق کر دی ہے کہ جو لاشیں انہیں حزب اللہ کے پانچ قیدیوں کے عوض حوالے کی گئی ہیں وہ ان ہی دو اسرائیل فوجیوں کی ہیں جنہیں حزب اللہ نے دو سال قبل یرغمال بنا لیا تھا۔
ان ہی دو اسرائیل فوجیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل نے لبنان پر دو سال قبل فوجی کشی کی تھی تاہم ان کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔
ان کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کرنے کے عوض پانچ حزب اللہ کے ارکان کی رہائی کے علاوہ اسرائیل دو سو کے قریب فلسطینیوں اور حزب اللہ کے ارکان کی لاشیں بھی حزب اللہ کے حوالے کرے گا جو اسرائیل کے شمال میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ یہ لاشیں ان ہی اسرائیلی قیدیوں کی ہیں جنہیں حزب اللہ نے یرغمال بنا لیا تھا، ان لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروارئے گئے تھے۔
لبنان میں اسرائیل کے دو فوجیوں کی لاشوں کے بدلے میں پانچ لبنانی فوجیوں کی رہائی پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
دو سال قبل جولائی ہی کے مہینے میں اسرائیل فوج نے ان فوجیوں کی رہائی کے لیے لبنان پر حملہ کیا تھا۔
ان قیدیوں کی رہائی کے بعد حزب اللہ کا کوئی رکن اسرائیل کی قید میں نہیں رہے گا۔
اسرائیل سے رہائی پانے والے حزب اللہ کے ارکان میں سمیر قنطار بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے تین ساتھیوں سمیت انیس سو اناسی میں ایک اسرائیلی پولیس اہلکار، ایک دیگر شخص اور اس کی چار سالہ بیٹی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
لبنان میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور سمیر قنطار کے شاندار استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ لیکن اسرائیل میں سوگ اور کشیدگی کا ماحول ہے کیونکہ اسرائیلی انٹیلیجنس کے مطابق اس کے فوجیوں کی لاشیں ہی وطن واپس آئیں گی۔
اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ باضابطہ طور پر قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیا تھے۔
اسرائیل حزب اللہ کے ایسے جنگجوؤں کی لاشیں بھی حوالے کرے گا جو اسرائیل سے لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
سن 2006 میں حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجیوں ایہود گولڈواسر اور ایلاد ریگیو کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان چونتیس دن جنگ جاری رہی تھی۔
اسرائیل کی کابینہ نے سمجھوتے کو گزشتہ ہفتے منظوری دی تھی۔ حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ سن 1986 سے لاپتہ ہونے والے اسرائیلی ایئرمین رون اراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔
ایک اور اسرائیلی فوجی گیلاد شالط فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے قبضے میں ہے۔
منگل کو جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کمانڈر شیخ نبیل نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے پر تیار ہوکر اسرائیل نے لبنان کے خلاف جنگ میں رسمی طور پر اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔