http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 16 July, 2008, 03:21 GMT 08:21 PST

امریکہ ایران سے بات چیت پر آمادہ

امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذارکرات میں موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ کے سینیئر سفارتکار ولیم برنس سنیچر کو جنیوا میں ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانا کی ملاقات میں شریک رہیں گے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی نے امریکی ذارئع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسٹر برنس ’ صرف سنیں گے، الگ سے کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ امریکہ ان چھ ممالک میں شامل ہے جو ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس کا موقف رہا ہے کہ جب تک ایران یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرتا، وہ براہ راست بات چیت میں حصہ نہیں لے گا۔
جنیوا کے مذاکرات میں ایران مراعات کے اس پیکج پر اپنا موقف واضح کرے گا جو گزشتہ ہفتے سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے پیش کیا تھا۔

اس پیکج کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ اور باقی پانچ ممالک کے وزرا خارجہ کی جانب سے ایران کو ایک خط بھی دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی روک دے تو اس کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں میں عارضی نرمی کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران نے لمبی دوری تک مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان لفظوں کی جنگ چھڑ گئی تھی۔

ایران اس تازہ ترین پیش کش پر یورپی یونین کے ذریعہ اپنا جواب دے چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرے گا لیکن امید کی جارہی ہے کہ وہ سنیچر کی بات چیت میں اپنے موقف میں نرمی کرسکتا ہے۔