Saturday, 12 July, 2008, 13:29 GMT 18:29 PST
چین میں حکام نے اولمپکس کے دوران ایک سو بارہ ریستورانوں کے کھانے کے مینو میں کتے کا گوشت شامل نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ اولمپکس دیکھنے کے لیے آنے والے غیر ملکی شہریوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے۔
ریستوران مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی کھانے میں کتّے کا گوشت مانگتا ہے تو اسے دیگر کھانوں کا مشورہ دیا جائے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ادارے زن ہوا کے مطابق اگر کسی ریستوران نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی تو اسے’ بلیک لسٹ‘ کر دیا جائے گا۔
یہ پابندی بیجنگ کی ’ کیٹرنگ ٹریڈ ایسوسی ایشن‘ کی جانب سے عائد کی گئی ہے۔بیجنگ ٹورازم کے نائب ڈائریکٹر زیؤنگ یمئی نے خبر رساں ادارے زن ہوا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر کوئی کّتے کا گوشت مانگتا ہے تو ریستوراں کے عملے کو دیگر چیزوں کے بارے میں اسے بتانا چاہیے‘۔
بی بی سی کے نامہ نگار جیمس رینلڈز کے مطابق یہ پابندی اس لیے عائد کی گئی ہے تاکہ غیر ملکی شہری علاقائی عادتوں اور رسومات سے حیران نہ ہوں۔ یاد رہے کہ 1988 میں سیول اولمپکس کے دوران بھی جنوبی کوریا نے کتّے کے گوشت پر پابندی عائد کر دی تھی۔