Thursday, 03 July, 2008, 11:00 GMT 16:00 PST
فلسطینی شدت پسند تنظیموں کے دعووں کے باوجود اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کو یروشلم کے مغربی حصے میں بلڈوزر سے حملہ کرنے والے فلسطینی باشندے کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا۔
حسام دوایت ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کر رہے تھے جب وہ اپنے بلڈوزر کو سڑک پر لے آئے اور وہاں بلڈوزر سے پہلے ایک بس اور بعد میں کئی کارروں کوٹکریں ماریں۔
اس واقعہ میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس نے بلڈوزر ڈارئیور کو کیبن میں گھس کی ہلاک کر دیا۔
تین فلسطینی شدت پسند تنظیموں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس سے پہلے یروشلم میں مارچ میں ایک مذہبی سکول پر فلسطینی شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔
تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فلسطینی شدت پسندوں کے جنازوں کے برعکس مشرقی یروشلم میں دوایت کے گھر کے باہر نہ تو
لوگ ہیں اور نہ ہی بینر یا پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔
![]() |
|
فلسطینی انسانی حقوق کے کارکن حاسب ناشاشبی کے مطابق دوایات کو اسرائیلی حکام کی طرف سے غیر قانونی تعمیراتی کام کرنے پر بھاری جرمانہ اور عمارت کو مسمار کرنے کے احکامات ملے تھے۔ ان کے مطابق حملے کے پیچھے یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
دوایات کے خاندان کے ایک دوست نے کہا کہ ’سب صدمے میں ہیں۔‘