Tuesday, 01 July, 2008, 09:51 GMT 14:51 PST
پولینڈ کے صدر لیخ کٹچنسکی نے کہا ہے کہ آئرلینڈ میں معاہدے پر ریفرنڈم میں شکست کے بعد وہ یونین میں اصلاحات کے لزبن معاہدے فی الحال دستخط نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ لزبن معاہدے پر دستخط کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے باوجود اس کے کہ پولینڈ کی پارلیمنٹ اس کی توثیق کر چکی ہے۔
مسٹر کٹچنسکی نے یورپی اتحاد کے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے لیے آئر لینڈ پر دباؤ ڈالنے سے گریز کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایک دفعہ اتفاق رائے کا اصول توڑا جائے تو پھر اس کا حصول ممکن نہیں رہے گا‘۔
تاہم صدر کٹچنسکی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں یورپی اتحاد کام کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اتحاد کام کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہےگا یقیناً یہ کوئی آئیڈیل اتحاد نہیں لیکن اتنے پیچیدہ ادارے کا آئیڈیل ہوناممکن نہیں ہے‘۔
یہ معاہدہ جنوری 2009 سے نافذ ہونا ہے اور یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کا اس معاہدے کی توثیق کرنا ضروری ہے۔
مسٹر کٹچنسکی نے یہ بیان ایسے موقع پر دیا ہے جب فرانس نے یورپی اتحاد کی سربراہی سنبھالی ہے۔
اس سے قبل صدارت سنبھالتے ہوئے فرانس کے صدر مسٹر نکولس سرکوزی نے کہا تھا کہ یورپ یونین میں کچھ ایسا ہے جو ٹھیک نہیں ہے، انہوں
نے متنبیہ کیا یونین پر شہریوں کا اعتماد اُٹھ سکتا ہے۔
![]() |
|
| آئر لینڈ کا ریفرنڈم لزبن معاہدے کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوا ہے |
صدر لیخ کٹچنسکی نے پولینڈ کےایک اخبار زینک کو انٹرویو دیتے ہویے کہا ہے فی الحال اس معاہدے کا کوئی جواز نہیں‘۔
پولینڈ کی پارلمان اس معاہدے کی توثیق اس سال اپریل میں کر چکی ہے لیکن اس پر صدر کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔
برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے پولینڈ کے صدر اب اپنے ساتھی ملک چیک کے ساتھ مل کر کھلم کھلا اس معاہدے کی توثیق کی مخالفت کر رہے ہیں۔
یورپی اتحاد کے رکن ملک چیک کے صدر وکلا کلاؤز اور دوسرے کئی لاء میکرز اس معاملے پر سرد مہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
جرمنی کے صدر ہوسٹ کوئیلر نے بھی قانونی چیلنجز پرملک کے اعلیٰ عدالت کا فیصلہ آنے تک اس کی توثیق موخر کر دی ہے۔