http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 29 June, 2008, 23:48 GMT 04:48 PST

اسرائیل قیدیوں کے تبادلے پر راضی

اسرائیلی کابینہ نے لبنان کے اسلام پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے کہ دو اسرائیلی فوجیوں کے بدلے میں پانچ لبنانی قیدیوں اور متعدد فلسطینیوں کو رہا کردیا جائے۔

اسرائیل کے ان دو فوجیوں کو حزب اللہ نے دو سال پہلے پکڑ لیا تھا اور ان کی رہائی کی کوشش میں اسرائیل نے لبنان پر چڑھائی کردی تھی لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے قیدیوں کے تبادلے کی پچیس میں سے بائیس ووٹوں سے منظوری دی گئی۔ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جرمنی کی مدد سے طے پایا۔

رہا ہونے والے لبنانی قیدیوں میں سمیر القنطار بھی شامل ہونگے جوانیس سو اناسی سے اسرائیل کی قید میں ہیں۔ انہیں ایک خونی چھاپہ مار حملے میں حصہ لینے کی وجہ سے پکڑا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجی جنہیں دو ہزار چھ میں پکڑا گیا تھا

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرت نے کہا ہے کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے فوجی ہلاک ہو چکے ہونگے لیکن پھر بھی یہ تبادلہ ہونا چاہیے۔ حزب اللہ نے اس طرح کا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ دونوں فوجی زندہ ہیں۔

ریڈکراس کو ان فوجیوں سے ملنے کی اجازی نہیں دی گئی اور اسرائیل میں زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اسرائیل نے پہلی بار کہا ہے کہ اس کے دونوں فوجی زندہ نہیں۔ ناقدین کہتے رہے ہیں اسرائیل کو ہلاک ہو جانے والے فوجیوں کے بدلے قیدی نہیں چھوڑنے چاہیے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق اسرائیل پانچ لبنانیوں کے علاوہ تقریباً دس شدت پسندوں کی لاشیں بھی حوالے کرے گا۔

اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان چونتیس دن لڑائی ہوئی تھی۔ جرمنی اس لڑائی کے بعد سے قیدیوں کے تبادلے کی کوشش کر رہا ہے۔

یکم جون کو حزب اللہ نے لڑائی میں ہلاک ہونے والے پانچ اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی تھیں۔ اسرائیل نے ان فوجیوں کی لاشوں کے بدلے ایک لبنانی کو رہا کیا تھا جو حزب اللہ کے لیے جاسوسی کرنے پر چھ سال سے جیل میں تھا۔

ایک اسرائیل فوجی گلاد شلت حماس کا قیدی ہے۔ اسے غزہ کی پٹی کے قریب ایک چھاپے کے دوران پکڑا گیا تھا۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس فوجی کو اسرائیل کے ساتھ قیدیوں میں تبادلے میں رہا کرنے پر غور کرے گی۔