Thursday, 26 June, 2008, 02:58 GMT 07:58 PST
امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی کے سینئر سینیٹر اور امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے چیئرمین جوزف بائڈن نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد میں تین گنا اضافہ کر دیا جائے جبکہ فوجی امداد کڑی شرائط کے تحت ہی دی جائے۔
جوزف بائڈن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی غیر فوجی امداد کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی حد تک بڑھا دیا جانا چاہیے اور اس غیر مشروط امداد کا سلسلہ دس برس کے لیے ہونا چاہیے جبکہ فوجی آپریشنز کے لیے رقم اسی صورت میں دی جائے جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب منگل کو امریکی مالی محتسب ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کئی طرح کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں اور جنوری سنہ 2004 سے جون 2007 کے دوران پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے دو ارب ڈالر کی رقم ایسی ہے جس کے خرچ کا مکمل حساب موجود نہیں ہے۔
جوزف بائڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کو جہاں سے بہتر نتائج حاصل ہوں وہاں زیادہ خرچ کرنا چاہیے اور جہاں مطلوبہ نتائج نہ ملیں وہاں امداد سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہت زیادہ دے رہے ہیں اور جواب میں ہمیں بہت کم حاصل ہو رہا ہے جبکہ پاکستانیوں کی سوچ اس کے برعکس ہے‘۔
جوزف بائڈن نے کہا کہ موجودہ حالات کا تسلسل غیر مستحکم ہے اور دونوں جانب یہی خیال پنپ رہا ہے کہ یہ لین دین کا تعلق جلد ہی اپنی افادیت کھو دے گا۔
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ بائڈن کی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اگرچہ ہم اس بل کے ہر نکتے سے اتفاق نہیں کرتے لیکن ہم اس کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ شراکت کا دو طرفہ عہد بہت اہم ہے‘۔