Thursday, 26 June, 2008, 07:32 GMT 12:32 PST
اسرائیل نے کہا ہے کہ فلسطین کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملے کے بعد اس نے غزہ کے علاقے میں اپنی سرحد کو بند کردیا ہے۔
اسرائیل نے اس حملے کو اسرائیل اور فلیسطین کے سخت گیرگروپ حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی بتایا ہے۔
معاہدے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں مزید آمد کی اجازت دے دی تھی لیکن حملے کے بعد اس کا کہنا ہے کہ یہ سرحد تب تک بند رکھے گا جب تک وہ آئندہ اسے کھولنے کا اعلان نہیں کرتا ہے ۔ سرحد کا راستہ سفارتکاروں اور صحافیوں کے لیے کھلا رہے گا۔
غزہ پر 2007 سے پر حماس کا قبضہ ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ سرحد کو بند کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
حماس کے لیڈر خلیل الحیاء کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان چھ دن پہلے ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر اٹل ہیں اور انہوں نے سبھی فلیسطینی گروپوں سے اس معاہدے کو ماننے کی اپیل کی ہے۔ حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں اسرائیل کی پولیس کی طرح کام نہیں کرسکتے ہیں۔
منگل کو ہونے والے راکٹ حملے کو ایک اسلامی گروپ نے انجام دیا تھا اور انکا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کے ویسٹ بینک میں ہونے والی ریڈ کے بدلے میں یہ حملہ کیا تھا۔ ریڈ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
راکٹ حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں تھی۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلا حملہ تھا۔
اسرائیل کی حکومت پہلے ہے متنبہ کر چکی ہے اگر کسی بھی فلیسطینی گروپ نے تشدد کا رخ اختیار کیا اور کوئی بھی حملہ کیا تو وہ سختی سے اس کا جواب دے گی۔
منگل کو برلن میں ایک کانفرنس میں فلسطین کے وزیر اعظم سلام فیاد نے کہا تھا کہ ’جنگ معاہدے پر قائم رہنا ضروی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس معاہدے کی جو بھی خلاف ورزی کی گئی ہے وہ ہوگئی لیکن اسے دوبارہ نہ دہرایا جائے۔‘
اسرائیل اور حماس کے درمیان 19 جون کو چھ ماہ کی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔
اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ پٹی میں داخل نہیں ہوگا اور غزہ جنوبی اسرائیل پر کوئی میزائیل حملہ نہیں کرے گا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی افواج کے داخل ہونے سے روکےگا اور فلیسطین اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔