Wednesday, 25 June, 2008, 04:15 GMT 09:15 PST
امریکی ریجنل کمانڈر کے مطابق مشرقی افغانستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں چالیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
میجر جنرل جیفری شولیسر کے مطابق شدت پسند اب افغانستان کی معاشی ترقی کے درپے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرقی افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں سے بارہ فیصد پاکستان سے ملحقہ سرحد کے ساتھ ہوئے ہیں۔ انہوں نے طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ان شدت پسندوں کو حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جو بقول ان کے سرحد کے دونوں جانب سرگرم ہیں۔
واشنگٹن میں موجود رپورٹرز سے بذریعہ ویڈیو لنک بات کرتے ہوئے میجر جنرل شولیسر نے کہا کہ ’دشمن سرحدی علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت میں مصروف ہے اور وہیں پناہ حاصل کرتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے سکول جلانے اور اساتذہ اور طباء کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور’مجموعی طور پر جب آپ دیکھتے ہیں تو وہ ایسی چیزوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ایک عام افغان شہری کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہو‘۔
یاد رہے کہ امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسی ماہ پاکستانی سرحد کے اندر طالبان کے خلاف کارروائی میں مصروف امریکی فوج کے ایکشن میں گیارہ پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔