Wednesday, 25 June, 2008, 07:37 GMT 12:37 PST
امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے پہلی بار امریکہ میں صدر کے عہدے کے ڈیموکریٹک امیدوار باراک اوباما کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صدراتی انتخابات میں نامزدگی کے لیے بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری کلنٹن اوباما کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی کی اہم امیدوار تھیں لیکن وہ امیدواری کے لیے نامزدگی کے انتخابات میں اوباما سے ہار گئی تھیں۔
نامزدگی کے لیے ہونے والے انتخابات میں ہلیری کلنٹن اور ان کے شوہر بل کلنٹن نے اوباما کی انتخابی مہم کی جم کر تنقید کی تھی اور بھر پور کوشش کی تھی کہ وہ ان کے ارادوں کو نیچا دکھائیں اور ہلیری پرائمری انتخابات جیت کر ڈیموکریٹک پارٹی کی صدراتی انتخابات کی اہم امیدوار بن کر ابھریں۔
اطلاعات ہیں کہ جمعہ کو ہلیری کلنٹن اور باراک اوباما ایک مشترکہ ریلی کریں گے لیکن اس موقع پر بل کلنٹن موجود نہیں ہونگیں کیونکہ وہ اس وقت یورپ کے دورے پر ہونگیں۔
کلنٹن کے ترجمان میٹ مکینا کا کہنا ہے ’ بل کلنٹن اوباما کے امریکہ کا نیا صدر بننے کے لیے جو سپورٹ دے سکتے ہیں وہ ديں گے اور ان کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے۔‘
باراک اوباما کی انتخابی مہم چلانے والے دفتر نے کلنٹن کی حمایت کو قبول کرتے ہوئے کہا ’ ایک متحد ڈیموکریٹک پارٹی ہی امریکہ میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور اوباما کی جیت کو یقین بنانے میں مسٹر کلنٹن ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ‘
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کوماراسوامی کا کہنا ہے کہ کلنٹن آج بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے مشہور لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں اور انکی حمایت اوباما کو صدراتی انتخابات جیتنے میں بے حد مدد گار ثابت ہوسکتی ہے اور خاص طور پر وہ اوباما کو اس ورکنگ کلاس کے ووٹ دلانے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں جن کے درمیان خود اوباما اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہیں ہیں۔ ‘
ہمارے نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھلے ہی اوباما کے دفتر سے یہ بیان آیا ہو کہ کلنٹن کی حمایت کے بعد انہیں صدارتی انتخابات جیتنے میں مدد ملے گی لیکن اوباما اور کلنٹن کیمپ کے رشتے ابھی بھی اتنے خوشگوار نہیں ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اسوسیٹیڈ پریس کا کہنا ہے کہ اوباما اور کلنٹن نے پرائمری انتخابات کی مہم کے دوران ہوئے بحث و مباحثوں کے بعد ایک دوسرے سے ایک بھی بار بات چيت نہیں کی ہے۔
پرائمری انتخابات کی مہم کے دوران مسٹر کلنٹن نے اوباما کو یہ کہا تھا کہ عراق کی جنگ پر اوباما کی مخالفت ایک افسانوی کہانی کی طرح ہے اور وہ انتخابات میں ووٹرز کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے نسل پرستی کا کارڈ کھیل رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر آئی تلخیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ہلیری کلنٹن کے حمایتوں کا دل جیتنےکی بھی کوشش کر رہے ہیں۔